بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مسبوق مسافر مقتدی کا مسافر امام کے پیچھے چار رکعات پڑھنا
سوال
میں ایک جگہ جاب کرتا ہوں اور ہفتہ بعد گھر جاتا ہوں یعنی مسافر ہوں ،میں وہاں کبھی کبھی باجماعت نماز کی امامت کراتا ہوں، وہاں پر اور بھی دوست ہیں جوکچھ مقیم ہیں اور کچھ مسافر ۔ دوران نماز اگر ایک رکعت پڑھ لو ں اور دوسری رکعت میں ایک مسافر مقتدی شامل ہو جائے جس کو پتہ نہ ہو کہ امام مسافر ہے یا مقیم اور وہ مقیم گمان کرکے باقی تین رکعت پڑھ لےتو اس صورت میں وہ دوبارہ نماز پڑھے گا یا ہو جائے گی؟
جواب
مقتدی کے لیے امام کی حالت سے باخبر ہونا ضروری ہے،اگر امام کی حالت کا علم نہ ہو تو اس کی اقتدا درست نہیں ہوگی ،کیونکہ امام کی حالت کا جاننا اقتدا کی صحت کے لیے شرط ہے،تاہم ابتدا ہی سے اس کا جاننا ضروری نہیں بلکہ نماز کے درمیان یا امام کے سلام پھیرنے کے بعد امام کے اعلان سے حالت معلوم ہونے سے بھی یہ شرط پوری ہو جائے گی اور مقتدی کی نماز درست ہو جائے گی۔
صورت مسؤلہ کےمطابق اگر امام نے نماز کے بعد اعلان نہ کیاہو اور نہ مقتدی کو نماز کے آخر تک امام کی حالت معلوم ہوئی ہو تو اس کی اقتدا امام کے پیچھے درست نہ ہوگی اور اس کے لیے دوبارہ نماز پڑھنا لازم ہوگا۔
إذا اقتدى بالإمام لا يدري أمسافر هو أم مقيم لا يصح؛ لأن العلم بحال الإمام شرط الأداء بجماعةلا أنه شرط في الابتداء لما في المبسوط رجل صلى الظهر بالقوم بقرية أو مصر ركعتين وهم لا يدرون أمسافر هو أم مقيم فصلاتهم فاسدة سواء كانوا مقيمين أم مسافرين؛ لأن الظاهر من حال من في موضع الإقامة أنه مقيم والبناء على الظاهر واجب حتى يتبين خلافه، فإن سألوه فأخبرهم أنه مسافر جازت صلاتهم.(البحرالرائق، كتاب الصلاة، باب المسافر، ج:2، ص:238)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں