بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

میراث میں ملی ہوئی زمین پر کوئی دعوی کرے تو اس میں قسم کی کیفیت


سوال

اگر کسی شخص کو کوئی مکان یا زمین میراث میں مل جائے اور اس پر کوئی دوسرا شخص دعوی کرے، لیکن اس کے  پاس گواہ موجود نہ ہو ں، تو مدعی علیہ پر قسم آئے گا یا نہیں ؟ اگر اس پر قسم ہو تو کس چیز پر قسم اٹھائے گا کہ یہ میری  ملک ہے یا اس پر کہ یہ مجھے میراث میں ملی ہے؟

جواب

اگر کسی کو کوئی چیز  میراث میں مل جائے اور اس پر کوئی دعوی کرے، لیکن مدعی کے پاس گواہ موجود نہ ہوں تو مدعی علیہ ( وارث) اس بات پر قسم اٹھائے گا کہ اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں کہ یہ چیز مدعی کی ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی کو کوئی مکان یا زمین میراث میں ملی ہو اور اس پر کوئی شخص دعوی کرے، لیکن مدعی کے پاس گواہ موجود نہ ہوں تو مدعی علیہ اس  بات پر قسم اٹھائے گا کہ "الله كی قسم جو مکان یا زمین مجھے میراث میں ملی ہے مجھے معلوم نہیں کہ یہ مدعی کی ملکیت  ہے"۔

 

(قال) أي محمد في الجامع الصغير في كتاب القضاء: (‌ومن ‌ورث ‌عبدا وادعاه آخر) ولا بينة له (استحلف) أي الوارث (على علمه) أي بالله ما يعلم أن هذا عبد المدعي (لأنه لا علم له) أي للوارث (بما صنع المورث فلا يحلف على البتات) إذ لو حلفنا عليه لامتنع عن اليمين مع كونه صادقا فيها فيتضرر به. ( فتح القدير، كتاب الدعوى، فصل في كيفية اليمين والاستحلاف، ج: 8، ص:110)


فتویٰ نمبر : 5935/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں