بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 24/10/2026 |
دارالافتاء
مرده پائے جانے والی شير خوار بچی كے كفارے كا حكم
سوال
میری ایک بیٹی تھی جو کہ 45 دن کی تھی وہ بہت زیادہ بیمار تھی اس کا سینہ خراب تھا اور اس کو نمونیا ہوا تھا ایک رات میری اپنے شوہر کے ساتھ بہت زیادہ لڑائی ہو گئی لڑائی اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ وہ میں خود کو پنکھے سے لٹکا کر خود کو مارنے لگ گئی تھی، لیکن اس چیز کو ترک کر کے میں نے نشے کی ایک پوری ڈبے کی ساری گولیاں کھا لیں اور سو گئی اور یہ بھی نہیں سوچا کہ میری بیٹی کا کیا ہوگا جب میں صبح اٹھی تو میری بیٹی فوت ہو چکی تھی اب مجھے یہ نہیں معلوم کہ میری بیٹی اپنی اس بیماری کی وجہ سے فوت ہوئی ہے یا میں ساری رات سوتی رہی ہوں اور وہ روتی رہی ہے اس تکلیف میں وہ وفات پائی ہے صبح اٹھنے کے بعد جب ہم نے اس کو دیکھا تو اس کے جسم پر کوئی نیلے نشان نہیں تھے اور نہ ہی وہ ٹھنڈی ہوئی تھی وہ بالکل ویسے ہی گرم پڑی ہوئی تھی بالکل اسی طریقے سے سوئی ہوئی تھی جیسے رات کو میں نے اسے سلایا ہوا تھا اب میرے دل میں بہت زیادہ بہت بڑا بوجھ ہے کہ ایسا کیا ہوا ہے اس رات کو میں نماز پڑھتی ہوں تو میری بیٹی میرے سامنے آکر کھڑی ہو جاتی ہے ایسا لگتا ہے کہ میں نے اپنی بیٹی کو قتل کیا ہوا ہے میں اس بارے میں کسی سے بات بھی نہیں کر سکتی کہ ایسا نہ ہو کہ میری وجہ سے وہ فوت بھی نہ ہوئی ہو اور لوگوں کی نظروں میں میں قاتلہ بن جاؤں آپ مجھے بتائیں کہ میں اس بارے میں کیا کروں کیا کوئی کفارہ ہے کہ میں وہ کفارہ ادا کروں یا ایسی کوئی بھی چیز ہو جس کی وجہ سے میرے دل کو سکون ملے، میں سو نہیں سکتی ہوں میں رات کو سوتی ہوں میری بیٹی میرے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے حالانکہ اس بات کو کئی سال گزر چکے ہیں، مجھے اس بارے میں بتا دیں کوئی فتوی بتائیں تاکہ میرا دل سکون میں ہو جائے میں کل کو قیامت کے دن اپنی بیٹی کے سامنے قاتلہ بن کر نہیں کھڑا ہونا چاہتی، کچھ بھی ہو میں کرنے کے لیے تیار ہوں کوئی بھی سزا ہو میں اس سزا کو کاٹنے کے لیے تیار ہوں کوئی بھی کفارہ ہو میں وہ کفارہ دینے کے لیے تیار ہوں ۔
جواب
اگر كسی کو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے میں شک ہو اور کسی جانب غالب گمان نہ ہو تومحض وساوس کی وجہ سے اس پر کچھ واجب نہیں ہوتا۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگر سائلہ کو غالب گمان نہ ہو کہ بچی اس کے نیچے دب کر مری ہے تو محض وساوس کی وجہ سے اس پر کوئی کفارہ واجب نہیں، البتہ وساوس اور غموں کو دور کرنے کےلیے ان کلمات کا ورد کثرت سے کرنا چاہیے۔ (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السماوات وَرَبُّ الْأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيم) امید ہے کہ اِن کے پڑھنے سے وسوسے دور ہوکر سکون واطمینان کی کیفیت حاصل ہوجائے گی۔
عن ابن عباس:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول عند الكرب: (لا إله إلا الله العظيم الحليم، لا إله إلا الله رب العرش العظيم، لا إله إلا الله رب السماوات ورب الأرض، ورب العرش الكريم). ( صحیح البخاری، کتاب الدعوات، باب: الدعاء عند الكرب، رقم الحدیث: 5986، ج: 2، ص: 939)
قال: "وما أجري مجرى الخطأ مثل النائم ينقلب على رجل فيقتله.( الهداية، كتاب الجنايات، ج: 4، ص: 556)
اليقين لا يزول بالشک، وفيها قواعد ... الثانية: من شک هل فعل أو لا؟ فالأصل أنه لم يفعل". ( شرح الحموي على الأشباه والنظائر لابن نجيم، الفن الأول، النوع الأول: القاعدة الثانية، ج: 1، ص: 193 )
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں