بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

ترکہ کے بعض حصہ سے بھائیوں کا بہنوں کو محروم کرنا


سوال

اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس نے جو کل زمین چھوڑی ہے اس میں انتقال شدہ زمین جو کہ پاک صاف حکومت میں اس کے نام ہے دوسری شاملات جس میں دو قسم کا شاملات ہے ایک جو اس کے نام پہ درج ہے اور دوسرا جو شاملات اس کے نام پہ درج نہیں ہے صرف اس کے ساتھ قبضہ میں  ہے۔  تیسری ایسی زمین جو کسی اور کے نام ہے،  لیکن قبضہ اس شخص کا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جب یہ زمین تقسیم ہوگی تو کس قسم کی زمین میں بیٹیوں کو حصہ دیا جائے گا، کیونکہ بیٹے تو ساری زمین  آپس میں بانٹ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بہنوں کا صرف ملکیتی زمین یا درج شدہ شاملات میں حق ہے۔ جبکہ بہنوں کا مطالبہ ہے کہ جس طرح بھائی سب کچھ آپس میں بانٹ رہے ہیں ہمیں بھی والد کی تمام جائیداد میں برابر حصہ دیا جائے۔

جواب

وہ مال و جائیداد جو  مرحوم نے  چھوڑا ہو اور اس کے ساتھ کسی غیر کا حق متعلق نہ ہو تو اس کو ترکہ کہا جاتا ہے اور اس پورے مال وجائیداد میں ہر ایک وارث اپنے حصہ کے مطابق شریک ہوگا۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق مرحوم کا جتنا مال و جائیداد اس کی موت کے وقت اس کی ملکیت میں ہو خواہ اس کے نام پر درج ہو یا نہ ہو اور اس کے ساتھ کسی غیر کا حق متعلق نہ ہو  تو اس پورے مال و جائیداد میں بیٹے اور بیٹیاں اپنے اپنے حصہ کے مطابق شریک ہوں گے۔

 

قال الله تعالى: ﴿وَلا ‌تَأْكُلُوا ‌أَمْوالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْباطِلِ﴾. )البقرة: 8 (1

وقال: ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ ( النساء: 11)

والمراد ‌من ‌التركة ما تركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه. ( تبيين الحقائق، كتاب الفرائض، ج: 6، ص: 229)


فتویٰ نمبر : 3634/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں