بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/07/2026

دارالافتاء

 

معاوضہ لے کر طلبہ کے لیے اسائمنٹ لکھنا


سوال

میں اگر کسی غیر مسلم سٹوڈنٹ کے لیے  ان کی اسائمنٹ یا ٹیسٹ   تیارکرتا ہوں  بطور فری لانسر  جو کہ میں پچھلے  پانچ سال سے کررہاہوں کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟یہ ایک آئن لائن کورس ہے   جس سے میرے  طالب علم   کے پاس ہونے سے یا اچھے  نمبر لینے سے  کسی  ودسرے  طالب علم  کی پوزیشن  پر  پر کوئی اثر نہیں ہوتا  لیکن یہ بات بھی ہے  کہ اسے  اسائمنٹ یا امتحان  میں کا میابی  سے   اس کو ایک ڈگری   مل جاتی ہے  جس کی وجہ سے   وہ اپنی نوکری  میں پروموشن  بھی کر سکتا ہے  اور معاشرےمیں کا میاب  ہو سکتا ہے۔

جواب

تعلیمی خدمات  چاہے  کرنے پر اجرت لینا  جائز ہے،  شرعی طور پر اس میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ کسی بھی تعلیمی ادارے کی جانب سے طالبِ علم(Student) کو دیا گیا وہ کام جس  سے اس طالبِ  علم کی صلاحیت کا امتحان مقصود ہو یااس کی  تعلیم وتر بیت مقصود ہو  اور اس کی بنیاد پر مستقبل میں اس کو سند (Degree) جاری کی جاتی ہو ، تو اِیسا  کام طالبِ علم  پر بذاتِ خود سرانجام دینا لازم ہے۔ورنہ مستقبل میں یہی طالبِ  علم  نا اہلی کے باوجود اس ڈگری کی بنیاد پر وہ سہولیات  حاصل کرے گا جو اصل ڈگری والوں کا حق ہے۔

 لہذاصورت مسئولہ میں اگر طالب علم خود اسائمنٹ لکھنے کا پابند ہو تو اس  کے لیے اجرت لے کراسائنمنٹ (Assignment) تیار کرنا لکھنا  جھوٹ اوردھوکا  دہی  میں تعاون  ہے اس لیے اس پر اجرت لینا جائز نہیں ہے۔   

تاہم جزوی معاونت،جیسے حوالہ جات کی فراہمی یا کمپوزنگ و سیٹنگ میں مددکرنےیا غلطیوں کی  نشاندہی کرنے پر اجرت لینا جائز ہے  ۔

 

قال الله تعالى﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ (المائدۃ:2)

قوله تعالى: وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ فيعم النهي كل ما هو من مقولة الظلم والمعاصي، ويندرج فيه النهي عن التعاون على الاعتداء والانتقام.وعن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما وأبي العالية أنهما فسرا الإثم بترك ما أمرهم به وارتكاب ما نهاهم عنه، والعدوان بمجاوزة ما حده سبحانه لعباده في دينهم وفرضه عليهم في أنفسهم، وقدمت التحلية على التخلية مسارعة إلى إيجاب ما هو المقصود بالذات، وقوله تعالى: وَاتَّقُوا اللَّهَ أمر بالاتقاء في جميع الأمور التي من جملتها مخالفة ما ذكر من الأوامر والنواهي، ويثبت وجوب الاتقاء فيها بالطريق البرهاني.(روح المعانی،ج3،ص230)

عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا."(صحيح مسلم،رقم الحديث:101)


فتویٰ نمبر : 3610/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں