بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

قرض کی ادائیگی سے پہلے میراث کی تقسیم


سوال

ہمارے والد صاحب مرحوم ایک ارب سے زائد کی جائیداد چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں لیکن ساتھ ہی ان کے ذمہ قرض تقریبا 6کروڑ ہے، جبکہ کچھ ورثاء قرض دینا نہیں چاہتےورثا کا مطالبہ یہ ہے کہ وراثت پہلے بانٹ لی جائے اور ہر بندہ اپنی مرضی سے قرض دے یا نہ دے تو شریعت کی رو سے ایسا کرنا کیسا ہے؟

جواب

 شریعت مطہرہ کی رو سے میت کی تجہیز و تکفین کے بعد سب سے پہلے اس کے ترکہ سے اس کے ذمے واجب الادا قرض ادا کرنا ضروری ہے۔قرض کی ادائیگی کے بعد اگر مرحوم نے وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے تہائی حصے سے وصیت ادا کی جائے گی اور اس کے بعد بقیہ مال ورثا میں تقسیم کیا جائے گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق مرحوم کے ورثا پر لازم ہے کہ  سب سے پہلے مرحوم  کے ترکہ سے قرض ادا کریں اس کے بعد میراث  تقسیم کرسکتے ہیں، قرض ادا کرنے سے پہلے ورثا میراث تقسیم کرنے کے حق دار نہیں۔

 

"(ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد).... (ثم) تقدم (وصيته)... (ثم يقسم الباقي) بعد ذلك (بين ورثته)أي الذين ثبت إرثهم بالكتاب أو السنة۔"۔(الدر المختار، كتاب الفرائض، ج:10، ص:532)

"ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله، ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين، ثم يقسم الباقي بين ورثته"۔(السراجي، الحقوق الأربعة المتعلقة بتركة الميت، ص:14)


فتویٰ نمبر : 3637/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں