بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

ملازمین کے لیے چھٹیوں کے ایام کی تنخواہ لینا


سوال

 ہمارے علاقے میں سرکاری ملازم ہیں ۔ حکومت کی طرف سے ہر سال دو ماہ کی چھٹیاں ہوتی ہیں ،لیکن وہ  حکومت سے ان دو  مہینوں کی تنخواہ لیتےہیں۔ کیا ان کے لیے یہ تنخواہ لینا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ کسی ادارے کے ملازم کو ایام عمل اور اوقات عمل میں حاضر رہنے کی اجرت دی جاتی ہے، البتہ انسانی ضروریات اور طبعی تقاضوں کے پیش نظر ہفتہ وار یا سالانہ چھٹیاں بھی ایام عمل کے تابع ہوتی ہیں، لہذا یہ ایام بھی حکماً ایام عمل(کام کے دن) شمار ہوتے ہیں،چنانچہ چھٹیوں کی تنخواہ لینے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق سركاری  ملازمین   کے لیے دو ماہ کی چھٹیوں کی تنخواہ لینا شرعاً جائز ہے ۔

 

ومنهاالبطالة في المدارس کأیام الأعیاد ویوم عاشوراء وشهر رمضان في درس الفقه لم أرها صریحة في کلامهم، والمسئلة فيه علی وجهين: فإن کانت مشروطة لم یسقط من المعلوم شيئ، وإلا فینبغي أن یلحق ببطالة القاضي وقد اختلفوا في أخذ القاضي ما رتب له من بیت العال في یوم بطالته، فقال في المحیط أنه یأخذ في یوم البطالة؛ لأنه یستریح للیوم الثاني.(الأشباه والنظائر، القاعدة السادسة، العادة محكمة، ص:٤٧)

 


فتویٰ نمبر : 3602/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں