بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/07/2026

دارالافتاء

 

گاڑی کو آدھے نفع پراجارہ پر دینا


سوال

میرے بھائی نے   گاڑی خرید  کر ایک شخص کو کر ایہ پر دی اور اس سے کہا کہ کہ تم اس کو چلاو اور جو نفع ہو گا  اس میں آدھا  مجھے دو اور آدھا تم لو ۔کیا اس طرح کا معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

شریعت کی رو سے اجارہ کے معاملہ  میں اجرت ، منفعت اور مدت اجارہ کا متعین کرنا  ضروری ہے ۔صورت مسئولہ میں چونکہ  اجرت اور مدت اجارہ مجہول ہیں اس لیے یہ معاملہ  جائز  نہیں ۔ اس کے جواز کی صورت یہ ہے کہ باہمی رضامندی سے روزانہ  یا ماہانہ کے حساب سے مخصوص رقم بطور کرایہ متعین کر دی جائے اور مدت اجارہ  بھی مقرر کی جائے ۔

 

ولا تصح حتى تكون ‌المنافع ‌معلومة، ‌والأجرة معلومة" لما روينا، ولأن الجهالة في المعقود عليه وبدله تفضي إلى المنازعة كجهالة الثمن والمثمن في البيع.( الهداية، كتاب الإجارة،باب تعريف الإجارة،ج:٣،ص:٢٩٦)

وإن تكارى دابة إلى ‌بغداد ‌على ‌أنه إن رزقه الله تعالى من بغداد شيئا أو من فلان شيئا أعطاه نصف ذلك فهذا فاسد وعليه أجر مثلها فيما يركب.( الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة، الباب الخامس، الفصل الثانى في ما يفسد العقد..، ج:٣،ص:٤٤٣)


فتویٰ نمبر : 3596/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں