بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/07/2026

دارالافتاء

 

قعدہ کی حالت میں سورۃ فاتحہ پڑھنا


سوال

اگر کوئی قعدہ اولی میں خیال نہ ہونےکی وجہ سےتشہد کے بجائے سورۃ فاتحہ پڑھ لے اور خیال آنے پر تشہد بھی پڑھ لے، تواس سے نماز پرکوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں؟

جواب

نماز میں واجب امور کے ترک کرنے سے یا مؤخر کرنے سے اوریا رکن کی تاخیر سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔ تشہد بھی واجب امور میں سے ہے، لہذا اگرکوئی سورۃ فاتحہ کو تشہد کی جگہ پڑھ لےتو اس پر سجدہ سہو واجب ہوتا ہےالبتہ اگر تشہد پڑھ لینے کے بعد فاتحہ کو پڑھ لے تو اس صورت میں سجدہ سہو لازم نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی نے قعدہ اولی میں تشہد کے بجائے سورۃ فاتحہ پڑھ لی  پھر تشہد بھی پڑھا تواس پر سجدہ سہو لازم ہے۔

 

ولا يجب السجود إلا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن أو تقديمه أو تكراره أو تغيير واجب بأن يجهر فيما يخافت وفي الحقيقة وجوبه بشيء واحد وهو ترك الواجب، كذا في الكافي۔۔۔ (ثم واجبات الصلاة أنواع)۔۔۔ (ومنها) التشهد۔۔۔وإذا فرغ من التشهد وقرأ الفاتحة سهوا فلا سهو عليه وإذا قرأ الفاتحة مكان التشهد فعليه السهو وكذلك إذا قرأ الفاتحة ثم التشهد كان عليه السهو، كذا روي عن أبي حنيفة رحمه الله في الواقعات الناطفية وذكر هناك إذا بدأ في موضع التشهد بالقراءة ثم تشهد فعليه السهو ولو بدأ بالتشهد ثم بالقراءة فلا سهو عليه۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الصلوة، الباب الثاني عشر في سجود السهو، ج:1، ص:126)


فتویٰ نمبر : 10122/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں