بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

منگنی کے بعدرخصتی سے پہلے طلاق دینا


سوال

ایک شخص نے ابھی تک شادی نہیں کی ہےاور نہ نکاح کیا ہےصرف منگنی ہوچکی ہےاس بندے نے گزشتہ دن کہا کہ اگر میں نے فلاں کام کیا تو میری بیوی کو طلاق ، اور پھر وہی کام کر لیا، تو فی الحال یہ بندہ بغیر بیوی کے ہے لیکن اگر نکاح کرےتو کیا بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی یا نہیں؟

جواب

طلاق واقع ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جس کو طلاق دی جارہی ہو وہ عورت اس کے نکاح میں موجودہو، یا اگر وہ نکاح میں موجود نہ ہو تو نکاح  کی طرف نسبت کر کے طلاق دی گئی ہو۔

صورت مسئولہ کےمطابق اگرکسی کی صرف منگنی ہوئی ہونکاح نہ ہوا ہو، اوریہ کہا کہ "اگر میں نے فلاں کام کیا تو میری بیوی کو طلاق " تو چونکہ نہ اس نے نکاح کیا ہے اور نہ ہی اس جملے میں نکاح کی طرف نسبت ہے، چنانچہ اگر نکاح سے قبل یا نکاح کے بعد وہ کام کرلےتو طلاق واقع نہ ہوگی۔

 

عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «‌لا ‌طلاق ‌إلا ‌فيما تملك، ولا عتق إلا فيما تملك، ولا بيع إلا فيما تملك زاد ابن الصباح: ولا وفاء نذر إلا فيما تملك.» (سنن أبي داؤد، كتاب الطلاق، باب في الطلاق قبل النكاح، ج:2، ص:224، رقم الحديث:3190)

وشرطه في الزوج أن يكون عاقلًا بالغًا مستيقظًا، و في الزوجة أن تكون منكوحته أو في عدته التي تصلح معها محلًّا للطلاق (فتح القدير،كتاب الطلاق، ج:3، ص:463)

ولا ‌تصح ‌إضافة ‌الطلاق ‌إلا ‌أن ‌يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك " لأن الجزاء لا بد أن يكون ظاهرا ليكون مخيفا فيتحقق معنى اليمين وهو القوة والظهور بأحد هذين والإضافة إلى سبب الملك بمنزلة الإضافة إليه لأنه ظاهر عند سببه " فإن قال لأجنبية إن دخلت الدار فأنت طالق ثم تزوجها فدخلت الدار لم تطلق " لأن الحالف ليس بمالك ولا أضافه إلى الملك أو سببه ولا بد من واحد منهما۔(الهداية، كتاب الطلاق، باب الأيمان في الطلاق، ج:3، ص: 196)


فتویٰ نمبر : 6983/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں