بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد میں پیسے دینے کی نذر ماننا


سوال

ایک شخص نے منت مانی کہ" اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں اتنی رقم مسجد میں دوں گا " کیا یہ نذر منعقد ہوگئی  ہے اور اس کا پورا کرنا لازم ہوگا یا نہیں ؟ اوراسی مسجد میں دینا ضروری ہے یا کہیں بھی دینا جائز ہے اورکیا مسجد میں پیسے دینا قربت مقصودہ ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی نے ایسی جگہ رقم دینے کی نذر مانی   ہو جو نذر کا مصرف ہی نہ ہو تو اس سے نذر منعقد نہیں ہو گی، لہذا  اس کو پورا کرنا ضروری نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی نے یہ کہا یہ" میرا فلاں کام ہو گیا تو میں اتنی رقم مسجد میں دوں گا "تو  یہ نذر منعقد نہیں ہو گی، کیونکہ مسجد میں رقم  دینا نہ فرض ہے اور نہ واجب ہے۔ نیز مسجد نذر کی رقم کا مصرف بھی نہیں  کیونکہ نذر  کی رقم کسی مستحق زکوٰۃکی ملکیت میں دینا ضروری ہے اسی طرح نذر کی رقم پر مسجد کی ملکیت ثابت نہیں ہوسکتی ۔ لہذا ایسی  نذر پوری کرنا ضروری نہیں البتہ ایک نیک کام میں خرچ کرنے کا وعدہ ہونے کی حیثیت سے اس مسجد میں اتنی رقم خرچ کرنی چاہئے۔

 

ومن ‌شروطه ‌أن ‌يكون قربة مقصودة فلا يصح النذر بعيادة المريض، وتشييع الجنازة، والوضوء، والاغتسال، ودخول المسجد، ومس المصحف، والأذان، وبناء الرباطات والمساجد وغير ذلك، وإن كانت قربا إلا أنها غير مقصودة اهـ فهذا صريح في أن الشرط كون المنذور نفسه عبادة مقصودة لا ما كان من جنسه، ولذا صححوا النذر بالوقف لأن من جنسه واجبا وهو بناء مسجد للمسلمين كما يأتي مع أنك علمت أن بناء المساجد غير مقصود لذاته۔(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الأيمان،ج:3ص:735)

وفی القنیۃ:نذر ‌التصدق ‌على الأغنياء لم يصح ۔(رد المحتار على الدر المختار،کتاب الأيمان،ج:3ص:738)


فتویٰ نمبر : 10146/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں