بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
آن لائن اسائمنٹ لکھنا
سوال
اسائمنٹ لکھنے سے متعلق مسئلہ دریافت کرناہے ۔ تفصیل کچھ یوں ہے کہ1: پہلے آپ نے اسائمنٹ لکھنے والے گروپ کو جوائن کرنا ہوتا ہے ، جس میں ایڈ کرانے کی مختلف فیسیں ہوتی ہیں مثلا 1500 ، 2500 ، 3000 وغیرہ ۔ فیس جمع کرنے کے بعد گروپ میں ایڈ کیا جائے گا ، فیس کے بغیر نہیں ۔ 2: فیس جمع کرنے کے بعد ممبر کو روزانہ کے حساب سے جمع کی گئی فیس کے مطابق ایک ٹاپک دیا جاتا ہے ، جس پر مضمون لکھنا ہوتا ہے (کاپی پیسٹ کی بھی اجازت ہوتی ہے ، بس مضمون ٹاپک کے مطابق ہونا چاہیے) مثلا 1500 فیس جمع کرنے کی صورت میں ہر ایک ٹاپک پر 900 روپے دیے جاتے ہیں ، زیادہ فیس پر زیادہ پیمنٹ دیا جاتا ہے ۔ 3: 24 گھنٹے کے دوران اگر مضمون نہیں لکھا تو پیسے نہیں ملیں گے ۔ 4: نیز پیسے نکالنے کے لیے ایک ممبر کو آپ نے ایڈ کرنا ہوگا ، ممبر ایڈ کیے بغیر آپ رقم کیش نہیں کرسکتے ( یہ لازمی شرط ہے) اس قسم کی ارننگ کے جواز وعدم جوازکےمتعلق جامعہ کی کیا رائے ہے؟ مطلوبہ سوالات: ایڈ ہونے کیلئے فیس جمع کرنا ۔ کسی سے اسائمنٹ لکھوانے کی شرعی حیثیت ۔ ممبر ایڈ کرنے کی شرط لگانا ۔
جواب
اجرت کے بدلے میں کوئی چیز لکھنا یا لکھوانا اجارہ کہلاتا ہے اور اجارے میں ایسی شرط لگانا ،جس کاعقدتقاضانہ کرے اوراس میں متعاقدین میں سے کسی ایک کانفع ہو،تو ایسی شرط اجارہ کو فاسد کر دیتی ہے۔
سوال میں ذکر کردہ طریقہ کار کے مطابق ایسے گروپ جوائن کر کے کمائی کرنے میں درج ذیل شرعی قباحتیں پائی جاتی ہیں،اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہئے :
1۔گروپ جوائن کرنے کے لیے سب سے پہلے مشروط طور پررجسٹریشن فیس کے نام پر رقم دینی پڑتی ہے اور اس رقم کے مقابلے میں قابلِ معاوضہ کوئی چیز بھی نہیں ہوتی۔ یہ شرط شرعی لحاظ سے درست نہیں، کیونکہ اس میں ایک معاملے کو دوسرے کے ساتھ مشروط کرنا لازم آتا ہے،جو شرعاً جائز نہیں۔
2۔ اگر لکھنے کے لیے دیے جانے والے مضامین طلبہ یا ان حضرات کے ہوں، جن پر ان مضامین کو خود تحریر کرنا لازم تھا، مگر وہ لوگ کسی دوسرے سے مضامین لکھوا کر اپنی طرف منسوب کرکے پیش کریں گے،ایسی صورت میں اس سے حاصل ہونے والی کمائی بھی کراہت سے خالی نہ ہوگی، کیونکہ جائز مضمون پر مشتمل تحریر/مقالہ لکھنا اگرچہ گناہ نہیں، بلکہ مباح عمل ہے٬ جس کی اجرت حلال ہے، لیکن یہاں دھوکہ دہی کے کام میں معاونت کی وجہ سے اس میں کراہت آجائے گی۔
3۔ کام کے ساتھ مزید ممبرز کو ایڈ کروانے کی شرط بھی لگائی جاتی ہے اور اس میں اسائمنٹ لکھوانےوالے کا نفع ہے اورعقداس کاتقاضابھی نہیں کرتا۔ لہذااجرت کو ممبر ایڈ کرنے کی شرط کے ساتھ مشروط کرنا شرعا جائز نہیں،نیزگروپ جوائن کرنے والا شخص رجسٹریشن کے نام پر اپنا سرمایہ داؤ پہ لگا دیتا ہے،جبکہ آئندہ مطلوبہ شرائط کے مطابق ممبر بنا لینا یقینی نہیں،بلکہ ایک موہوم امید کی حدتک ہوتا ہے ، یعنی ممبر ایڈ کرنے کی صورت میں اجرت ملے گی ورنہ نہیں لہذا یہ قمار (جوے)کے مترادف ہے۔
4۔ نیز عموماًاس طرح کے گروپس بنانے کا مقصد اسائمنٹیں لکھوانا نہیں ہو تا بلکہ لوگوں سے فیسیں بٹورنا ہو تا ہے ،لہذا اس وجہ سے بھی ایسے گروپس کو جوائن کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔
قال الله تعالی:﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾(سورۃ المائدۃ:90)
عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال:" نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن سلف وبيع، وعن شرطين في بيع واحد، وعن بيع ما ليس عندك، وعن ربح ما لم يضمن".(سنن النسائي، كتاب البيوع، باب:شرطان في بيع،رقم الحديث :4635)
"أن كل شرط لا يقتضيه العقد وهو غير ملائم له، ولم يرد الشرع بجوازه، ولم يجز التعامل فيه وفيه منفعة لأهل الاستحقاق مفسد"۔(تبيين الحقائق، كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، ج:4، ص:57)
"لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص"۔(رد المحتارعلى الدر المختار، كتاب الحظر والإباحة، باب الإستبراء وغيره، فصل في البيع ، ج:9 ص:577)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں