بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 25/07/2026 |
دارالافتاء
بغیر گواہ کے صرف ایک عورت کےقول سے رضاعت کا ثبوت
سوال
میرا بیٹا بچپن میں اپنی والدہ سے رہ گیا تھا،پھر میں نے اپنی بھابھی کی تربیت میں دیا،بلوغت کے بعد اس کی منگنی اپنی بھتیجی(دوسرے بھائی کی بیٹی)سے کرائی، منگنی کے دو سال بعدلڑکی کی ماں کہتی ہے کہ میں نے اس لڑکے کو دودھ پلایا ہے،جبکہ اس کے پاس کوئی گواہ نہیں،جس بھابھی کی تربیت میں یہ لڑکا دیا تھاوہ، میری بہنیں اور میں کہتا ہوں کہ اس نے اسے دودھ نہیں پلایا،پوچھنا یہ ہے کہ کیا ہم اس منگنی کو برقرار رکھ کر نکاح کرسکتے ہیں یا نہیں؟
جواب
شریعتِ مطہرہ کی رو سے ثبوتِ رضاعت کے لیے کم از کم دو مرد،یا ایک مرداوردو خواتین کی گواہی ضروری ہے، کسی ایک عورت کا قول رضاعت کے ثبوت کے لیے کافی نہیں ۔البتہ اگر خبر دینے والی خاتون قابلِ بھروسہ ہو تو بہتریہ ہے کہ یہ نکاح نہ کیا جائے۔
صورتِ مسئولہ میں لڑکی کی والدہ کا یہ کہنا کہ" میں نے اس لڑکے کو دودھ پلایا ہے" ،اگراس دعویٰ پردومرد،یا ایک مرداوردو عورتیں بطور گواہ موجود نہ ہوں توصرف اس کے دعویٰ سےحرمتِ رضاعت ثابت نہ ہو گی۔ تاہم اگر دعویٰ کرنے والی خاتون قابل اعتبار ہواور اس کے دعویٰ سےشبہ پیدا ہو رہا ہوتو پھرنکاح کے معاملے میں احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ اس سےاجتناب کیا جائے۔
"وإذا شهدت امرأة على الرضاع، فالأفضل للزوج أن يفارقها لما روي عن محمد أن عقبة بن الحرثقال تزوجت بنت أبي إهاب، فجاءت امرأة سوداء فقالت:إن أرضعتكما فذكرت ذلك لرسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال صلى الله عليه وسلم: فارقها، فقلت: إنها امرأة سوداء، وإنها كيت وكيت فقال صلى الله عليه وسلم كيف وقد قيل." ( بدائع الصنائع، کتاب الرضاع، ج:5، ص: 106)
"حجته حجة المال، وهی شھادۃ عدلین، أوعدل وعدلتين، وأفاد أنه لايثبت بخبرالواحد امراة كان، أو رجلا قبل العقد أو بعده."(ردالمحتارعلی الدرالمختار، باب الرضاع، ج:4، ص:420)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 302
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 232
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 845
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 423
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 107
- کتاب النکاح | فتاوئ : 533
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 462
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 35
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 55
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 441
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 94
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 72
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 66
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 166
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 372
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 196
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 142
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 57
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 18
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 36
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 304
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1131
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 368
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 17
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں