بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/07/2026

دارالافتاء

 

حرام مال سے خریدے گئے سامان کا حکم


سوال

اگر کسی شخص  نےحرام پیسوں سے کچھ سامان وغیرہ اپنے گھر کے لیے  خریدے ہوں تو پھر اس کا کیا کرنا چاہیے ؟اس کے پیسے مسجد میں دے یا اور کوئی حکم ہے ؟

جواب

جو مال حرام طریقے سے حاصل کیا گیا ہو تو اس مال  کو اصل مالک کی طرف لوٹانا ضروری ہے ۔لیکن  اگر اصل مالک معلوم  نہ ہو تو  پھر اس مال کو  بلا نیت ثواب فقرااور مساکین پر صدقہ کرنا ضروری ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی نے حرام پیسوں سے کچھ سامان وغیرہ خریدا  ہو تو اگر  اصل مالک معلوم ہو تو حرام پیسوں  کے  بقدر رقم اصل مالک  کو لوٹادےاور اگر  اصل مالک معلوم نہ ہو تو  ان پیسوں کے  بقدر رقم فقرا ومساکین کو  بلا  نیت  ثواب دینے سے ذمہ فارغ ہوسکتا  ہے ۔

 

وَالسَّبِيلُ في الْمَعَاصِي رَدُّهَا وَذَلِكَ هَاهُنَا بِرَدِّ الْمَأْخُوذِ إنْ تَمَكَّنَ من رَدِّهِ بِأَنْ عَرَفَ صَاحِبَهُ وَبِالتَّصَدُّقِ بِهِ إنْ لم يَعْرِفْهُ لِيَصِلَ إلَيْهِ نَفْعُ مَالِهِ إنْ كان لَا يَصِلُ إلَيْهِ عَيْنُ مَالِهِ۔(الفتاوی  الهندية،كتاب الكراهية،الباب الخامس عشر في الكسب،ج:5، ص:349)


فتویٰ نمبر : 5927/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں