بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

غیر صحابی کے لیے"رضی اللہ تعالیٰ عنہ"استعمال کرنا


سوال

کیا"رضی اللہ تعالیٰ عنہ"کسی ولی یا اللہ کے برگزیدہ مرحوم بندوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ "رضی اللہ عنہ" اپنے دعائیہ مفہوم (اللہ ان سے راضی ہوجائے)کے اعتبار سے صحابی کےعلاوہ کسی دوسرےمسلمان کے لیے بھی استعمال  کرنا جائز ہے ، لیکن چونکہ عرف میں بطورِ اعزاز و تکریم اس جملہ کا استعمال صحابہ کرامؓ کے ساتھ ہی کیا جاتا ہے اور یہ جملہ سنتے ہی صحابہ کرامؓ ہی کی طرف دھیان جاتا ہے، اس لیےصحابی کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے لیے اس جملے کو استعمال نہ کیا جائے تو زیادہ بہترہے۔

 

(‌ويستحب ‌الترضي ‌للصحابة) وكذا من اختلف في نبوته كذي القرنين ولقمان...(والترحم للتابعين ومن بعدهم من العلماء والعباد وسائر الأخيار وكذا يجوز عكسه) الترحم وللصحابة والترضي للتابعين ومن بعدهم (على الراجح) ذكره القرماني وقال الزيلعي الأولى أن يدعو للصحابة بالترضي وللتابعين بالرحمة ولمن بعدهم بالمغفرة والتجاوز".(رد المحتار على الدر المختار، مسائل شتى، ج:6، ص:854)


فتویٰ نمبر : 5926/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں