بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

احتلام ہو جانے کی صورت میں بستر وغیرہ پر سوکھ جانے والی نجاست دھونے کا حکم


سوال

سوتے وقت احتلام ہو جائے اور وہ خشک ہوجائے تو ہم کپڑے دھو لیتے ہیں اور نہا کر جسم پاک کر لیتے ہیں، مگر بستر، تکیہ چادر ووغیرہ کی نجاست کو کیسے تلاش کریں اور کیا کرنا چاہیے؟

جواب

واضح رہے کہ احتلام ہوجانے کی وجہ سے اگر چادر اور بستر وغیرہ بھی ناپاک ہوجائیں، لیکن نجاست سوکھ جانے کی وجہ سے نظر نہ آئے تو ایسی صورت میں اگر اپنے غالب گمان کے مطابق کسی ایک حصہ کو ناپاک سمجھتے ہوئے دھویا جائے تو وہ ناپاک کپڑا پاک ہوجائے گا، تاہم بہتر یہ ہے کہ اس پوری چیز (چادر وغیرہ) کو دھویا جائے۔نیز چادر اور ہر ایسی چیز جسے نچوڑا جاسکتا ہو تو اس کی ناپاکی دور کرنے کے لیے اسے تین مرتبہ پانی سے دھویا جائے اور ہر مرتبہ اپنی طاقت کے مطابق نچوڑا بھی جائے اور تیسری مرتبہ اس قدر خوب اچھی طرح نچوڑا جائے کہ اس سے پانی کے قطرے ٹپکنا بند ہوجائیں۔البتہ بستر اور ہر ایسی چیز جسے نچوڑا نہ جاسکتا ہو تو اس کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے تین مرتبہ دھویا جائے اور ہر مرتبہ دھونے کے بعد درمیان میں اس قدر وقفہ کیا جائے کہ اس سے پانی ٹپکنا بند ہوجائے۔ تین مرتبہ یہ عمل دہرانے سے وہ چیز پاک ہوجائے گی۔

 

وإن كانت غير مرئية يغسلها ثلاث مرات. كذا في المحيط ويشترط العصر في كل مرة فيما ينعصر ويبالغ في المرة الثالثة حتى لو عصر بعده لا يسيل منه الماء ويعتبر في كل شخص قوته وفي غير رواية الأصول يكتفي بالعصر مرة وهو أرفق. كذا في الكافي وفي النوازل وعليه الفتوى. كذا في التتارخانية والأول أحوط. هكذا في المحيط...وما لا ينعصر يطهر بالغسل ثلاث مرات والتجفيف في كل مرة؛ لأن للتجفيف أثرا في استخراج النجاسة وحد التجفيف أن يخليه حتى ينقطع التقاطر ولا يشترط فيه اليبس. هكذا في التبيين هذا إذا تشربت النجاسة كثيرا وإن لم تتشرب فيه أو تشربت قليلا يطهر بالغسل ثلاثا. هكذا في محيط السرخسي... إذا تنجس طرف من أطراف الثوب ونسيه فغسل طرفا من أطراف الثوب من غير تحر حكم بطهارة الثوب هو المختار فلو صلى مع هذا الثوب صلوات ثم ظهر أن النجاسة في الطرف الآخر يجب عليه إعادة الصلوات التي صلى مع هذا الثوب كذا في الخلاصة والاحتياط أن يغسل جميع الثوب وكذا إذا علم أنه أصاب الكم ولا يدري أي الكمين غسلهما. هكذا في محيط السرخسي.

(الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة،وفيه سبعة أبواب، الباب السابع في النجاسة، وأحكامها، الفصل الأول في تطهير الأنجاس، ج:1، ص: 42)


فتویٰ نمبر : 10121/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں