بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

خطیب کا خطبہ سے فراغت کے بعد کسی دوسرے شخص کو امامت کے لیے آگے کروانا


سوال

ہماری مسجد میں خطیب صاحب کبھی کبھارجمعہ کے دن خطبہ سے فراغت کے بعد اپنے شاگرد کو امامت کے لیے آگے کرتا ہے ،کیا اس طرح جمعہ ہو جا تا ہے؟

جواب

جمعہ کی نماز میں  بہتر یہ ہے کہ جو خطبہ پڑھے، وہی نماز جمعہ پڑھائے، البتہ اگر خطبہ دینے والا ایک  شخص ہو اور نماز جمعہ کی امامت کوئی دوسرا شخص کرے تو بھی خطبہ جمعہ اور نماز دونوں صحیح ہوں گے ،تاہم اس کی عادت نہیں بنانی چاہیے۔

صور ت مسئولہ کے مطابق خطیب صاحب کاخطبہ سے فراغت کے بعد اپنے شاگرد کو  امامت کے لیے آگے کرناجائز ہےاور اس سے خطبہ اور نماز پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔

 

لاينبغی أن يصلی غير الخطيب؛ لأنهما کشئ واحد فان فعل بأن خطب صبی بإذن السلطان، وصلی بالغ جازهو المختار... (قوله لأنهما) أي الخطبة والصلاة كشيء واحد لكونهما شرطا ومشروطا ولا تحقق للمشروط بدون شرطه فالمناسب أن يكون فاعلهما واحدا ط".(الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الصلاة، باب صلاة الجمعة، ج:2، ص:162)


فتویٰ نمبر : 10120/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں