بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

جواب کے آخر میں" والله أعلم بالصواب" لکھنا


سوال

مفتی حضرات جب کسی مسئلے کا جواب لکھ دیتے ہیں تو آخر میں "والله أعلم بالصواب"یا"والله الموفق"کے الفاظ لکھتے ہیں ،تواس کے لکھنے کا منشا کیا ہو تا ہے؟کیا مفتی کو اس مسئلے میں شک ہو تا ہے اس لیے لکھتے ہیں ؟

جواب

فقہائے کرام نے اس بات کی تصریح کی ہےکہ جب مفتی کسی سوال کا جواب لکھےتو اس کو چاہیےکہ اس کے آخر میں "والله أعلم" لکھے ،اوراہل السنۃوالجماعۃ کا اجماعی مسئلہ ہوتو"والله الموفق"لکھے۔یہ طریقہ اختیار کرنا فتوی کے آداب میں سے ہے ،اس کا یہ مقصد نہیں کہ لکھے ہوئے مسئلہ میں شک وشبہ ہے ، بلکہ یہ دراصل اس بات کا اقرار ہے کہ اللہ کا علم ہر چیز پر محیط ہے اور میرا علم اللہ کے علم کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ۔

 

وإذا أجاب المفتي ينبغي أن يكتب عقيب جوابه والله أعلم أو نحو ذالك. وقيل: في المسائل الدينية التي أجمع عليها أهل السنة والجماعة ينبغي أن يكتب: والله الموفق، أو يكتب: وبالله التوفيق، أو يكتب: وبالله العصمة كذا في جواهر الأخلاطي.(الفتاوى الهندية، كتاب أدب القاضي، الباب الأول في تفسير معنى الأدب، والقضاء، وأقسامه،وشرائطه، ج:3، ص:309)


فتویٰ نمبر : 5925/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں