بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/07/2026

دارالافتاء

 

لڑکوں اور لڑکیوں کا ایک ساتھ ٹور پرجانا


سوال

کالج کی طرف سے سٹوڈنٹس کے لیے ٹور منعقد کیا جاتا ہے جس میں لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ ٹور پر جاتے ہیں وہاں ان کے لیے پارٹیاں بھی منعقد کی جاتی ہیں  تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

عورتوں كے ليے نامحرم مردوں كے ساتھ گھر سے نکلنااور سیر وسیاحت کے لیے جانا جائز نہیں، شریعت نےصرف شرعی وطبعی ضرورتوں کے لیےعورتوں کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی ہے۔اس كے علاوه عورتوں كے ليے بلاضرورت گھر سے نکلنا درست نہیں ۔

صورت مسئولہ کے مطابق کالج کی طرف سے لڑکوں اور لڑکیوں کوایک ساتھ ٹور پر لےجانا اور وہاں ان کے لیے پارٹیاں منعقد کرناناجائز ہے لہذا اس سے اجتناب کرنا چاہیئے ۔

 

قال الله تعالی: ﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجاهِلِيَّةِ الْأُولى وَأَقِمْنَ الصَّلاةَ وَآتِينَ الزَّكاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ (الأحزاب: ٣٣)

عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «المرأة عورة، فإذا خرجت ‌استشرفها ‌الشيطان»۔(سنن الترمذي،ابواب الرضاع،ج:3،ص:468،رقم الحديث:1173)

عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «‌لا ‌تسافر ‌المرأة ‌إلا ‌مع ‌ذي ‌محرم، ولا يدخل عليها رجل إلا ومعها محرم»۔(صحيح البخاري،باب حج النساء،ج:3،ص:19،رقم الحديث:1862)

هذا جواب أبي حنيفة لحكام الرازي فإنه قال:سألت أبا حنيفة، رضي الله تعالى عنه: هل تسافر المرأة بغير محرم؟ فقال: لا، نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تسافر امرأة مسيرة ثلاثة أيام فصاعدا إلا ومعها زوجها أو ذو محرم منها.(عمدة القاري،شرح صحيح البخاري،باب حج النساء،ج:10،ص:220)


فتویٰ نمبر : 5941/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں