بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

اپنی بیوی سے "میری طرف سے تم آزاد ہو" کہنا


سوال

ایک شخص ہر وقت بیوی کے ساتھ لڑائی کرتا تھا گزشتہ دن اپنی بیوی سے کہا کہ میری طرف سے تم آزاد ہو اور اس  کی نیت  طلاق کی تھی، تو اب پوچھنا یہ ہے کہ آزاد لفظ سے کونسی طلاق واقع ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ لفظِ "آزاد "بذاتِ خود اگر چہ کنائی ہے، تاہم عرف میں یہ لفظ طلاق ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے فقہائے کرامؒ نے اس کو طلاقِ صریحی میں شمار کیا ہے لہذااس سے بلا نیت بھی طلاق رجعی واقع ہوگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق جس شخص نے اپنی بیوی سے یہ کہا ہو کہ" میری طرف سے تم آزاد ہو" تواس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوئی ہے۔

‌

فإن ‌سرحتك ‌كناية ‌لكنه ‌في ‌عرف ‌الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال"رهاكردم" أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج: 4، ص: 530)


فتویٰ نمبر : 6982/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں