بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

ایک مد کی رقم دوسرے مد میں خرچ کرنا


سوال

ایک صاحب دو مختلف مدمیں چندہ کر رہا ہے مثلا مسجد کے لیے بھی اور جنازگاہ کے لیے بھی، ایک شخص نے مسجد کی مد میں چندہ دیا پھرایک دن بعد کہا کہ اس کو جنازگاہ کی مد میں لگاؤ، تو کیا صدقہ میں اس طرح تصرف کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ چندے کی رقم جس مد کے لیے جمع کی گئی ہواسی مد میں خرچ کرنا ضروری ہے، اس کے علاوہ مصرف میں خرچ کرنے لیے چندہ دینے والوں کی اجازت ضروری ہے، اگر چندہ دینے والے اجازت دے دیں تو کسی اور مصرف میں اس کا استعمال جائز ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق جب چندہ دینے والے نے خود کہا کہ اس کو مسجد کی بجائے جنازگاہ کی مد میں لگاؤ، تو اس کی اجازت سے جنازگاہ میں لگانا جائز ہوگیا۔

 

‌‌وهنا ‌الوكيل ‌إنما ‌يستفيد ‌التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره۔ (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الزكوة، ج:2، ص؛269)

لا ‌يجوز ‌التصرف ‌في ‌مال ‌غيره بغير إذنه ولا ولاية إلا في مسألة في السراجية: يجوز للولد والوالد الشراء من مال المريض ما يحتاج إليه بغير إذنه. (الأشباه والنظائر، كتاب الغصب، المسائل الاستحسانية، ص:243)


فتویٰ نمبر : 5929/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں