بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ثمن کی ادائیگی میں تاخیر پربائع کا بازاری قیمت کا مطالبہ کرنا


سوال

ایک شخص نے دوسرے پر موٹر سائیکل اس شرط کے ساتھ فروخت کیا کہ تم ایک سال کے اندر اندر ان پیسوں کی ادائیگی کروگے، لیکن اس نے ایک سال کے اندر ان پیسوں کو ادا نہیں کیا، اب بائع کہتا ہے کہ آج کل بازار میں جو قیمت چل رہی ہے، مشتری وہ قیمت ادا کرے گا، تو پوچھنا یہ ہے کہ مشتری پر کون سی قیمت ادا کرنا لازم ہے؟

جواب

جب بائع اور مشتری مجلس عقد میں کسی قیمت پر اتفاق کرکے ایجاب وقبول کرلیں تو بیع تام ہوجاتی ہے،ا ور مشتری حسب معاہدہ طے شدہ رقم ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے،پھراگر معاملہ ادھار طے ہوا ہوتو ادائیگی کی مدت کو متعین کرنا بھی ضروری ہے تاکہ بعد میں نزاع پیدا  نہ ہو،نیز ادھار کی صورت میں خریدار اگر ادائیگی میں تاخیر کرےتو  پھر بھی وہی رقم ادا کرے گا جو عقدکے وقت  طے ہوئی تھی، بائع کے لیےمقررہ قیمت سے زیادہ رقم لینا جائز نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق  خریدار پر رقم  کی ادائیگی  حسبِ معاہدہ ایک سال کے اندر  لازم تھی، تاہم اگر  اس نے ادائیگی میں تاخیر کی اور اب دوسال بعد اس کو ادا کررہا ہو تو پھر بھی  اس پر وہی رقم دینا  لازم ہوگا جس پر اس نے موٹر سائیکل کو خریداتھا۔ بائع کے لیےاس سے زیادہ رقم کامطالبہ کرنا شرعاً جائزنہیں۔

 

ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما۔ (الهداية، كتاب البيوع، باب كيفية انعقادالبيع، ج:3، ص:21)

وفي الاشباه: ‌كل قرض ‌جر نفعا حرام۔ (ردالمحتار على الدرالمختار، مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج:5، ص:166)

إذا ‌عقد ‌البيع ‌على تأجيل الثمن إلى كذا يوما، أو شهرا، أو سنة، أو إلى وقت معلوم عند العاقدين كيوم قاسم أو النيروز صح البيع۔ (مجلة الأحكام العدلية، الفصل الثاني:في بيان المسائل المتعلقة بالنسيئة والتأجيل، المادة:247، ص:50)


فتویٰ نمبر : 3592/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں