بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

قرآن کی تلاوت کےدوران نبی علیہ السلام کے نام آنے پر درود پڑھنا


سوال

اگرکوئی شخص قرآن کی تلاوت کر رہا ہو اور اسی دوران حضرت محمد ﷺ  کا نام آجائے تو قاری کے لیے درود شریف پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

جوشخص قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول ہو اور اس دوران نبی کریم ﷺ کا نام آ جائے تو اس پر درود شریف پڑھنا واجب نہیں، اس لیے اگر قرآن مجید کی تلاوت کے دوران نبی کریم ﷺ کا نام آجائے، تو اپنی تلاوت کو جاری رکھ سکتا ہے، البتہ تلاوت سے فارغ ہونے کے بعد درود شریف پڑھنی چاہیے، تاہم اگر اُسی وقت آیت مکمل کرکے تلاوت روک دے اور درود شریف پڑھ لے، تو یہ بھی جائز ہے، نیز اگرتلاوت کو جاری رکھ کر درود شریف نہ پڑھ سکے اور فراغت کے بعد بھی نہ پڑھے تو بھی کوئی حرج نہیں۔

 

(قوله فلذا استثنى في النهر إلخ) أقول: يستثنى أيضا ما لو ذكره أو سمعه في القراءة أو وقت الخطبة لوجوب الإنصات والاستماع فيهما۔ وفي كراهية الفتاوى الهندية: ولو سمع اسم النبي صلى الله عليه وسلم وهو يقرأ لايجب أن يصلي، وإن فعل ذلك بعد فراغه من القرآن فهو حسن، كذا في الينابيع، ولو قرأ القرآن فمر على اسم نبي فقراءة القرآن على تأليفه ونظمه أفضل من الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم في ذلك الوقت، فإن فرغ ففعل فهو أفضل وإلا فلا شيء عليه كذا في الملتقط۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، فصل في بيان تأليف الصلاة إلى انتهائها، ج:1، ص:519)


فتویٰ نمبر : 5923/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں