بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
نہر سے سیراب شدہ زمین میں عشر کا حکم
سوال
ہم جس نہر سے اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں وہ ہم سے تقریبا تین چار کلو میٹر دوری کے فاصلے سے آتا ہے ،اس نہر کی صفائی ہم اپنی مدد آپ کے تحت سال میں کبھی تین مرتبہ اورکبھی چار مرتبہ کرتے ہے ،صفائی کے لیے نہ آنے والے پرجرمانہ لگا دیاجاتا ہے جو اسی نہر میں لگا دی جاتی ہے اور ا س نہر کی دیکھ بال اور پانی کا انتظام کرنے والا ایک شخص مقرر ہے جس کو ماہانہ تنخواہ دیتے ہیں ،اور پانی بھی لوگوں میں دن کے اعتبار سے تقسیم ہے ہر بندہ اپنے باری کے دن پانی استعمال کر سکتا ہے اس کے علاوہ دوسرے دن استعمال نہیں کرسکتا ،تو میرا سوال یہ ہے کہ ان کھیتوں میں عشر لازم ہے یا نصف عشر؟
جواب
واضح رہے کہ زمين كی پیداوار میں عشر اور نصف عشر کا دارومدار ،مشقت اور خرچ پر ہے،اس لیےاگر زمین بارش یا قدرتی چشموں کے ذریعے براہ راست سیراب کی جاتی ہو تو اس میں عشر واجب ہوگا ،لیکن اگر کسی اور طریقے سے سیراب کی جاتی ہو جس میں بوجھ، خرچ اور مشقت کو بھی دخل ہو تو اس میں نصف عشر واجب ہوگا۔
صورت مسؤلہ میں چونکہ نہر کا پانی زمین تک پہنچانے کے لیے نالہ کی صفائی وغیرہ میں محنت ومشقت کرنی پڑتی ہے، اس طرح ماہانہ پانی کا انتظام کر نے والے شخص کو تنخواہ دی جاتی ہے ،اس ليے مشقت اور خرچے كی وجہ سے اس نہر سے سیراب کی ہوئی زمین کی پیداور میں نصفِ عشر یعنی بیسواں حصہ واجب ہوگا ۔
ثم ماء العشر ماء البئر حفرت في أرض العشر، وماء العين التي تظهر في أرض العشر، وكذلك ماء السماء، وماء البحار العظام عشري.(الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، باب زكوة الزروع والثمار،ج:1، ص:186،187)
(قوله: لكثرة المؤنة) علة لوجوب نصف العشر فيما ذكر... ولو رفعت المؤنة كان الواجب واحدا وهو العشر دائما.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الزكوة، باب العشر، ج:3، ص:268)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں