بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

محض زمین کی تعیین کرنے سے وقف کا حکم


سوال

ایک شخص  15 مرلہ زمین مسجد و مدرسہ کے لیے وقف  کرنا چاہتا ہے  اور اس نے زمین کی تعیین بھی کر لی ہے  لیکن اب وہ زمین ایسی جگہ  پر آرہی ہے کہ اس کے ساتھ ایک کالونی بنی ہوئی ہے وہ کالونی والے اس علاقے کو جو کہ 5ایکڑ پر مشتمل ہے  خریدنا  چاہتے ہیں  اور بیچنے پر مجبور کر رہے ہیں ،اور اس شخص  کی وہاں زمین 5 کنال ہے  جس میں 15 مرلہ زمین وقف کرنا چاہتا ہے ،اب یہ شخص  اس 5کنال زمین کو فروخت کر کے کسی دوسری جگہ میں 15 مرلہ زمین وقف کرے تو کیا  ایسا کرنا ٹھیک ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے  کہ  کسی زمین  کو وقف  کرنے کی نیت  سےاور اس کی تعیین کرنے سے وہ زمین وقف نہیں ہو گی  ،بلکہ وقف تام  ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ زمین  جس مقصد کے لیے  وقف کی ہو اس  مقصد میں کم از کم ایک مرتبہ استعمال بھی ہو جائے ،اس کے بعد یہ زمین وقف  کہلائے گی جس کوتبدیل کرنا جائز نہیں ہو گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی نے 15 مرلہ زمین  وقف کرنے کے لیے معین  کی ہو تو  محض نیت  کرنے اور زمین کی تعیین کرنے سے یہ وقف تام نہیں ہوا ،لہذا  اگر زمین کو فروخت کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ زمین خرید کر وقف کرنا چاہے تو یہ جائز ہے۔

 

فأما ركنه فالألفاظ الخاصة ‌الدالة ‌عليه۔(الفتاوى الهندية،كتاب الوقف،ج2 ،ص352)

من بنى مسجدا لم يزل ملكه عنه،حتى يفرزه عن ملكه بطريقه،ويأذن بالصلوة فيه،فاذا صلى فيه واحد زال ملكه۔(كنزالدقائق،كتاب الوقف،ص:405)


فتویٰ نمبر : 5918/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں