بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 21/10/2026 |
دارالافتاء
اوقات نماز کے نقشے پر اشکال کا حل
سوال
اوقات نماز کے نقشوں میں دیئے گئے اوقات حسابی ہوتے ہیں ،اور حسابی اوقات کے بارے میں تمام حساب دانوں کا کہنا ہے کہ ان کا اصلی اوقات کے ساتھ فرق ہوتا ہے ،کیونکہ پورے شہر میں کسی ایک جگہ کا طول و عرض لیا جاتا ہے ،ظاہر بات ہے کہ اس شہر کے دیگر مقامات کا طول و عرض اس مخصوص مقام کے طول و عرض سے مختلف ہوتا ہے ،جس کی وجہ سے اوقات کا اس نقشے میں درج اوقات سے کچھ نہ کچھ فرق آتا ہے جو ایک دو منٹ ہو سکتا ہے،اور میل شمس کسی ایک ،مخصوص سال کا لیا جاتا ہے حالانکہ ہر سال کا میل شمس دوسرے سال سے مختلف ہوتا ہے ، نیز کوئی بھی نقشہ خواہ کمپیوٹر ہی سے کیوں نہ بنایا جائے اس میں اعشاریوں اور سکینڈوں کو حذف کرنا پڑتا ہے ،اور لیپ کے سال میں ایک دن کے اضافے سے بھی باقی دنوں کے اوقات کے ساتھ فرق پڑ جاتا ہے ۔لہذا ان وجوہات کی وجہ سے حسابی اوقات کا اصل وقت کے ساتھ فرق آنا یقینی ہے ،تو اگر کوئی شخص نقشے کے حسابی اوقات کے مطابق روزہ افطار کرے مثلا نقشے میں غروب آفتاب کا حسابی وقت 6:15 دیا گیا ہے اور اس نے عین 6:15 منٹ پر روزہ افطار کیا ،تو شریعت کی رو سے یہ روزہ صحیح ہے یا نہیں؟
جواب
شریعت مطہرہ نے بعض عبادات کو اوقات کے ساتھ خاص کیا ہے اگر ان اوقات کے اندر وہ عبادت ادا کر دی جائے تو ادا کہلائی گی ، ليكن اگر اس وقت سے تقدیم و تاخیر ہو جائے تو وہ عبادت اپنے وقت میں ادا نہ ہونے کی وجہ سے ذمہ پر باقی رہے گی۔جیسے پانچ نمازوں کے اوقات مقرر ہیں، روزے کا وقت مقرر ہے اگر کسی نے لاپرواہی کی اور روزہ طلوع فجر کے بعد بند کیا یا غروب آفتاب سے پہلے افطار کیا تو اس کا روزہ ادا نہ ہو گا بلکہ اس کے ذمے پر باقی رہے گا۔ آج کل نمازوں کے اوقات ،طلوع ،زوال ، اور غروب کی تعیین کے لیے نقشے تیار کئے گئے ہیں جن کے ذریعے آسانی سے ہر روز ہر نماز کا وقت معلوم کیا جا سکتا ہے۔البتہ ان میں بعض نقشے دوسرے نقشوں سے تھوڑے مختلف ہوتے ہیں اور ایک دومنٹ یا کم و بیش کا فرق پایا جاتا ہے ،جس کی وجہ یہ ہے کہ بعض نقشے اوقات کا اصلی وقت لکھتے ہیں جبکہ بعض نقشوں میں احتیاط کی وجہ سے ایک دو منٹ کا وقفہ رکھا جاتا ہے یہ احتیاط کی بنیاد پر ہوتا ہے اور ہر نقشہ تیار کرنے والے کی احتیاط دوسرے نقشہ تیار کرنے سے مختلف ہو سکتی ہے ،اسی طرح نقشہ تیار کرتے وقت اعشاریوں کو کاٹنے یا ان کو شامل کرنے میں آراء مختلف ہو سکتی ہیں،نیزتخریج اوقات میں کسی خاص مقام کا طول بلد و عرض بلد اور میل شمس کی مقدار دوسرے مقام سے مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے تمام اوقات میں احتیاط کرتے ہوئے ایک دو منٹ کے وقفہ کے بعد نماز و روزہ افطار کرنا چاہیے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص ایسے مقام پر ہو جہاں وہ سورج کو اپنی آنکھوں سے غروب ہوتا دیکھ سکتا ہو تو ایسے شخص کے لیے سورج کے غرو ب ہونے پر ہی روزہ افطار کرنا ہو گا،البتہ جہاں سورج کو اپنی آنکھوں سے غروب ہوتا ہوا دیکھنا دشوار ہو تو وہاں معتبر نقشوں پر اعتماد کر کے ان کے مطابق روزہ افطار کرنا درست ہے، لہذا اگر کسی نے نقشے کے وقت کے مطابق روزہ افطار کیا اور اس کا ظن غالب بھی یہی تھا کہ اس وقت سورج ڈوب چکا ہے تو اس کا اس نقشے کے مطابق روزہ افطار کرنا صحیح ہو گا۔
قال الله تعالى :إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا۔(النساء:103)
فينبغي الاعتماد في أوقات الصلاة وفي القبلة، على ما ذكره العلماء الثقات في كتب المواقيت، وعلى ما وضعوه لها من الآلات كالربع والأسطرلاب فإنها إن لم تفد اليقين تفد غلبة الظن للعالم بها، وغلبة الظن كافية في ذلك۔(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلاة،ج:1ص:431)
ويسن تعجيل الإفطار إذا غربت الشمس هكذا روي عن أبي حنيفة أنه قال: وتعجيل الإفطار إذا غربت الشمس أحب إلينا لما روينا من الحديث وهو قوله صلى الله عليه وسلم: «ثلاث من سنن المرسلين» وذكر من جملتها تعجيل الإفطار۔(بدائع الصنائع،كتاب الصوم،ج:2ص:105)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 892
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1192
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں