بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

بیچنے کی نیت سے لگائے گئے درختوں میں عشر


سوال

ہم نے اپنی زمین پر درختوں کا بڑا ذخیرہ لگایا ہے اور چار پانچ سال بعد جب  بڑے ہوجائیں گے، تو ان کو فروخت کردیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان درختوں میں بھی عشر ادا کرنا واجب ہوگا یا نہیں؟

جواب

اگر درخت اس مقصد کے لیے لگائے جائیں کہ ان  کی دیکھ بھال کرکے فروخت کریں گے اور آمدنی حاصل کریں گے، تو ان میں عشر ادا کرنا واجب ہوگا۔ صورت مسئولہ کے مطابق چونکہ درخت لگانے کا مقصد فروخت کرنا ہے، لہذا ان درختوں میں عشر ادا کرنا واجب ہوگا۔

 

اما ‌الحطب والقصب والحشيش فلا تستنبت في الجنان عادة بل تنقى عنها حتى لو اتخذها مقصبة أو مشجرة أو منبتا للحشيش يجب فيها العشر.(الهداية في شرح بداية المبتدي، كتاب الزكاة، باب  زكاة الزروع والثمار، ج:1، ص:108)

فلا عشر في ‌الحطب والحشيش والقصب والطرفاء والسعف؛ لأن الأراضي لا تستنمي بهذه الأشياء بل تفسدها حتى لو استنمت بقوائم الخلاف والحشيش والقصب وغصون النخل أو فيها دلب أو صنوبر ونحوها، وكان يقطعه ويبيعه يجب فيه العشر كذا في محيط السرخسي..(الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة ،الباب السادس في زكاة الزرع والثمار، ج:1،ص:186)


فتویٰ نمبر : 10113/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں