بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

اٹھارہ سال سے کم عمر بالغہ لڑکی کا اس کی رضا مندی سے نکاح کرانا


سوال

مسماۃ صفیہ  بی بی بنت حاجی اکبر کا نکاح مسمی زابن اکبرصافی کے ساتھ  مؤرخہ5جنوری 2023 ء کو طرفین کی رضا مندی کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس وقت مسماۃ صفیہ کی عمر اٹھارہ (18) سال سے کم تھی، البتہ وہ بالغہ ہوچکی تھی۔ کیا یہ نکاح شرعا معتبر ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جب بالغہ لڑکی کا نکاح اس کی رضامندی کے ساتھ نکاح کے دیگر شرائط  کی رعایت رکھتے ہوئے کیا جائے، توشرعاً وہ نکاح منعقد ہو جاتا ہے، چاہے اس کی عمراٹھارہ سال سے کم بھی ہو، لہذا صورت مسئولہ کے مطابق بشرط صدق وثبوت اگر مسماۃ صفیہ  کا نکاح طرفین کی رضا مندی کے ساتھ منعقد ہوا ہو، اوربوقت نکاح وہ بالغہ تھی، تواگرچہ اس وقت اس کی عمر اٹھارہ (18)سال  سے کم تھی، پھر بھی یہ نکاح شرعا معتبر ہے۔

 

عن أبي هريرة، أن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: "لا تنكح الثيب حتى تستأمر،ولا البكر إلا بإذنها" قالوا: "يا رسول الله، وما إذنها؟ قال: "أن تسكت".(سنن أبي داؤد، كتاب النكاح، باب في الإستئمار، ج:3، ص:433 رقم الحديث:2092)"

(ومنها) رضا المرأة إذا كانت بالغة بكرا كانت أو ثيبا فلا يملك الولي إجبارها على النكاح عندنا، كذا في فتاوى قاضي خان.(الفتاوى الهنديه، كتاب النكاح، ج:1،ص:269)

ولنا أن الثيب البالغة لا تزوج إلا برضاها فكذا البكر البالغة.(بدائع الصنائع، كتاب النكاح، ج:2،ص:246)


فتویٰ نمبر : 6976/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں