بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

سجدہ تلاوت کی نذر ماننا


سوال

کیا سجدہ تلاوت کی نذر ماننا درست ہے یا نہیں؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے جس چیز کی نذر مانی جا رہی ہو، اس کے لیے من جملہ دیگر شرائط کے ایک بنیادی شرط یہ بھی ہے کہ وہ عبادتِ مقصودہ ہو، چنانچہ جو عبادتِ مقصودہ نہ ہو، اس کی نذر ماننا درست نہیں۔ صورت مسئولہ کے مطابق چونکہ سجدہ تلاوت عبادتِ مقصودہ  نہیں ہے، لہذااس کی نذر ماننا درست نہیں۔

 

 (ومنها) أن يكون قربة مقصودة، فلا يصح النذر بعيادة المرضى وتشييع الجنائز والوضوء والاغتسال ودخول المسجد ومس المصحف والأذان وبناء الرباطات والمساجد وغير ذلك وإن كانت قربا؛ لأنها ليست بقرب مقصودة ويصح النذر بالصلاة والصوم والحج والعمرة والإحرام بهما والعتق والبدنة والهدي والاعتكاف ونحو ذلك؛ لأنها قرب مقصودة.(بدائع الصنائع، كتاب النذر، ج:5، ص:83،84)

الأصل أن النذر لا يصح إلا بشروط (أحدها) أن يكون الواجب من جنسه شرعا فلذلك لم يصح النذر بعيادة المريض. (والثاني) أن يكون مقصودا لا وسيلة فلم يصح النذر بالوضوء وسجدة التلاوة.(الفتاوى الهندية، كتاب الصوم، الباب السادس في النذر، ج:1، ص:208)


فتویٰ نمبر : 10177/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں