بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

ایکسیڈنٹ میں سواریوں کے فوت ہوجانےکا حکم


سوال

سوال: ایکسیڈنٹ میں سواریوں کے فوت ہوجانے کیوجہ سے ڈرائیور پر کفارہ واجب ہے کہ نہیں مفتی فرید صاحب رحمہ کا فتوی ہے کہ نہیں کیونکہ یہ قتل بالسبب ہے جبکہ بنوری ٹاون کا فتوی ہے کہ کفارہ واجب ہے ،حقیقت کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قتل خطا اس قتل کو کہتے ہیں جس میں قاتل کا ارادہ کسی کو قتل کرنے یا مارنے کا نہ ہو، لیکن اس کے فعل سے غیر ارادی طور پر کسی کی جان چلی جائے، اس میں نہ قتل کا ارادہ ہوتا ہے، نہ مقتول کو نشانہ بنایا جاتا ہے، بلکہ غلطی، یا غفلت کی وجہ سے قتل واقع ہو جاتا ہے،قتل خطا موجب دیت اورکفارہ  ہے،اور قتل بالسبب وہ قتل ہے جس میں کوئی شخص کسی کے قتل وہلاکت کا بالواسطہ سبب بناہو، یہ قتل موجب دیت ہےموجب کفارہ نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر ایکسیڈنٹ ہوجائےاور گاڑی کے اندر سواریوں کو موت آجائے،جبکہ ڈرائیور زندہ ہوتو یہ قتل بالسبب کے تحت آتا ہے،اور اس میں صرف عاقلہ پر دیت ہوتی ہےکفارہ نہیں ،البتہ اگرگاڑی کسی کو ٹکر مار کرقتل کرے،تواس صورت میں یہ قتل خطا ہوگا، اور درائیورپر کفارہ ہوگا ۔

 

قال الله تعالٰى:وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ.( سورة النسآء، آيت نمر:92 )

قال: "‌والخطأ على نوعين: خطأ في القصد، وهو أن يرمي شخصا يظنه صيدا، فإذا هو آدمي، أو يظنه حربيا فإذا هو مسلم وخطأ في الفعل، وهو أن يرمي غرضا فيصيب آدميا، وموجب ذلك الكفارة.( الهداية في شرح بداية المبتدي، ‌‌كتاب الجنايات، أوجه القتل، ج:4، ص:443 )

وأما ‌القتل ‌بسبب ‌كحافر ‌البئر وواضع الحجر في غير ملكه) لأنه ليس بمتعمد القتل ولا خاطئ فيه وإنما هو سبب فيه لتعديه.( الجوهرة النيرة على مختصر القدوري، كتاب الجنايات، القتل الخطأ، ج:2، ص:124 )

(‌وأما ‌القتل ‌بسبب فحافر البئر وهذا ليس بعمد ولا خطأ ولا ما أجري مجرى الخطأ؛ لأنه ليس بمباشر للقتل؛ لأن مباشرة القتل باتصال فعل من القاتل بالمقتول ولم يوجد.( النهاية في شرح الهداية، كتاب الرهن، القتل بسبب، ج:24، ص:100 )

 (‌لأن ‌الراكب ‌مباشر ‌فيه.....أن من سار على دابته في ملكه فأوطأت إنسانا بيد أو رجل فقتلته فعليه الدية والكفارة.( النهاية في شرح الهداية، ‌‌كتاب الديات، الراكب مباشر، ج:24، ص:288 )


فتویٰ نمبر : 6271/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں