بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

’’شاہ میر‘‘ نام کا مطلب اور رکھنے کا حکم


سوال

میں اپنے بیٹے کا نام "محمد شاہ میر" رکھنا چاہتا ہوں۔ "شاہ میر" کا مطلب کیا ہے اور کیا اس کے ساتھ "محمد" لکھنا درست ہے؟

جواب

"شاہ" اور "میر" دونوں فارسی زبان کے الفاظ ہیں، دونوں الفاظ کےمختلف معانی   ہیں۔ لیکن اکثر ان الفاظ کا استعمال بادشاہ اور سردار کے معنی میں ہوتا ہے،اس لحاظ سے  "شاہ میر" کا یہ معنی ہو سکتا ہے کہ "سرداروں کا بادشاہ"۔ یہ نام  رکھنے کی گنجائش  ہے اور اس کے ساتھ ’’محمد‘‘ لگانا بھی جائز ہے، البتہ اس میں مبالغہ پایا جاتاہے اور حدیثِ مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مبالغہ آمیز ناموں کو ناپسند فرمایاہے۔  لہذا اس کی  بجائے انبیاء وصلحاء کے ناموں میں سے کسی نام کا انتخاب کر کے اس کے ساتھ ’’محمد‘‘ لگالینا زیادہ بہتر ہے۔

 

عن أبي هريرةؓ، قال: قال رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم: أخنع الأسماء يوم القيامة عند الله رجل تسمى ملك الأملاك. قال سفيان: يقول غيره: تفسيره شاهان شاه.(صحيح البخاري، كتاب الأدب، باب أبغض الأسماء الى الله، ج:2، ص:916.)

التسمیة باسم لم یذکره الله تعالی فی عباده ولا ذکر رسول الله صلی الله علیه وسلم ولا يستعمله المسلمون تکلموا فيه، والأولی أن لا یفعله.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الحظر والإباحة،باب الاستبراء وغيره،ج:9،ص:599)

شاه: بادشاه، سلطان( فیروز اللغات، (مادہ: ش۔ا)، ص:882.)

میر: امیر کا مخفف، سردار ( فیروز اللغات، (مادہ: م-ی)، ص:1393.)


فتویٰ نمبر : 5980/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں