بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

خطبہ کے دوران مخصوص کیفیت کے ساتھ بیٹھنا


سوال

کچھ لوگ خطبہ کے دوران پہلے خطبہ میں ہاتھ باندھ دیتے ہیں، جب کہ دوسرے خطبہ میں ہاتھ کھول دیتے ہیں، کیا یہ مسنون طریقہ ہےیا نہیں ؟

جواب

جمعہ کے  خطبہ کے دوران بیٹھنے کی کسی بھی ہیئت کو اختیار کیا جاسکتا ہے، کسی مخصوص ہیئت کو اختیار کرنا  ضروری نہیں، البتہ جس طرح نماز میں تشہد کی حالت  میں بیٹھاجاتا ہے، اس طرح  بیٹھنا افضل ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق پہلے خطبہ کے دوران دونوں ہاتھ ناف کے نیچے باندھنے اور دوسرے خطبہ کے دوران ہاتھ رانوں پر رکھنے کا مخصوص انداز اختیار کرنے کو سنت سمجھنا درست نہیں۔

 

"ويستحب للرجل أن يستقبل الخطيب بوجهه هذا إذا كان أمام الإمام، فإن كان عن يمين الإمام أو عن يساره قريباً من الإمام ينحرف إلى الإمام مستعداً للسماع، كذا في الخلاصة۔۔۔إذا شهد الرجل عند الخطبة إن شاء جلس محتبياً أو متربعاً أو كما تيسر؛ لأنه ليس بصلاة عملاً وحقيقة، كذا في المضمرات، ويستحب أن يقعد فيها كما يقعد في الصلاة، كذا في معراج الدراية"۔(الفتاوى الهندية،کتاب  الصلاة، الباب السادس عشر في صلاة الجمعة،ج:1، ص:148،147)


فتویٰ نمبر : 10118/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں