بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

لا علمی میں بغیر وضو نماز پڑھنا


سوال

میں نے تین مہینے پہلے بغیر وضو کی نماز پڑھی لیکن مجھے علم نہیں تھا کہ میں بے وضو  ہوں جب نماز ختم ہوئی  تو پتہ چلا کہ میں نے بغیر وضو نماز پڑھی تھی، تو کیا لا علمی میں بغیر وضو نماز پڑھنے سے بندہ کافر ہوجاتا ہے یا نہیں؟

جواب

طہارت نماز کے لیے شرط ہے اس کے بغیر نماز پڑھنے سے نماز ادا نہیں ہوتی۔اگر کوئی شخص وضو کے بغیر نماز پڑھنے کو جائز اور درست سمجھتا ہویا نماز کے استخفاف، حقارت اور اہانت کی غرض سے ناپاکی کی حالت میں نماز پڑھتا ہے تو  ایسا شخص حکمِ شرعی سے انکار یا  اہانت و استخفاف کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص ناپاکی کی حالت میں نماز پڑھنے کو جائز نہیں سمجھتا، اور نہ حکمِ شرعی کی اہانت کی غرض سے ایسا کرتا ہے، بلکہ لاعلمی میں یا غلطی  وغیرہ کی وجہ سے ناپاکی کی حالت میں نماز پڑھتا ہے تو اس سے یہ شخص دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوگا۔

 

"قلت: وبه ظهر أن تعمد الصلاة بلا طهر غير مكفر كصلاته لغير القبلة أو مع ثوب نجس، وهو ظاهر المذهب كما في الخانية۔۔۔(قوله: غير مكفر) أشار به إلى الرد على بعض المشايخ، حيث قال المختار أنه يكفر بالصلاة بغير طهارة لا بالصلاة بالثوب النجس وإلى غير القبلة۔۔۔لأن الموجب للإكفار في هذه المسائل هو الاستهانة، فحيث ثبتت الاستهانة في الكل تساوى الكل في الإكفار، وحيث انتفت منها تساوت في عدمه، وذلك لأنه ليس حكم الفرض لزوم الكفر بتركه، وإلا كان كل تارك لفرض كافرا۔۔۔(قوله: كما في الخانية) حيث قال بعد ذكره الخلاف في مسألة الصلاة بلا طهارة وأن الإكفار رواية النوادر. وفي ظاهر الرواية لا يكون كفرا، وإنما اختلفوا إذا صلى لا على وجه الاستخفاف بالدين، فإن كان وجه الاستخفاف ينبغي أن يكون كفرا عند الكل۔۔۔أقول: وهذا مؤيد لما بحثه في الحلية لكن بعد اعتبار كونه مستخفا ومستهينا بالدين كما علمت من كلام الخانية، وهو بمعنى الاستهزاء والسخرية به، أما لو كان بمعنى عد ذلك الفعل خفيفا وهينا من غير استهزاء ولا سخرية، بل لمجرد الكسل أو الجهل فينبغي أن لا يكون كفرا عند الكل تأمل"۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطهارة، ج:1، ص:185)


فتویٰ نمبر : 10117/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں