بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عشاء کے بعد دو رکعت نفل کا اجر


سوال

عشاء کی فرض نماز کے بعد اور وتر سے پہلے دو سنت دو نفل اور مزید دو نفل   کیا ''قیام اللیل "کے برابر اجر کی کوئی بات ثابت ہے ؟

جواب

تہجد کی نماز کی بہت فضیلت احادیث مبارکہ میں آئی ہے ، تہجد کا افضل وقت رات کا آخری ثلث حصہ  ہے، لیکن اگر اس وقت نہ اٹھ سکنے کا اندیشہ ہو تو  نماز عشاء  كےبعد سنت اور وتر کے درمیان تہجد کی نیت سے دوچار رکعتیں پڑھ سکتے ہیں ،اگر تہجد میں نہ اٹھ سکے تو یہ نوافل تہجد کے قائم مقام ہوں گے ۔

 

عن ثوبان عن النبي صلی الله عليه وسلم قال: إن هذا لسهر جهد وثقل فإذا أوتر أحدکم فليرکع رکعتين فإن قام عن الليل وإلا کانتا له․ (رواه الدارمي ،حديث نمبر:١٦٣٥،جلد؛٢،ص:٩٩٣)

والأظهر أن المراد بالوتر ثلاث رکعات، والرکعتان قبله نافلة قائمة مقام التهجد وقيام الليل الخ (مرقاة ۳/۳۲۲)


فتویٰ نمبر : 10111/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں