بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد کی چیزمدرسہ میں استعمال کرنا


سوال

مسجد کی چیزیں مثلا بیٹری وغیرہ مدرسہ میں استعمال کرنا کیسا ہے ؟

جواب

 وقف میں واقف کی شرط کی رعایت رکھنا ضروری ہے۔ لہذا اگر کوئی  چیز مسجد کے لئے وقف ہے تو مسجد ہی میں استعمال ہوگی ،اور اگر مدرسہ کے لیے وقف ہے تو  مدرسہ میں استعمال ہوگی ،لیکن اگر کوئی مدرسہ  مسجد کے تابع ہو تو  پھر مسجد کی چیز مدرسہ میں استعمال کرنا جائز ہے،اور اگر مدرسہ  مسجد کے تابع نہ ہو تو پھر  مسجد کی چیز  مدرسہ میں استعمال کرنا جائز نہیں ۔

 

وما خالف شرط الواقف ‌فهو ‌مخالف ‌للنص وهو حكم لا دليل عليه، سواء كان نصه في الوقف نصا أو ظاهرا اهـ وهذا موافق لقول مشايخنا كغيرهم، شرط الواقف كنص الشارع فيجب اتباعه كما صرح به في شرح المجمع للمصنف.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الوقف،ج:4،ص:490)

مراعاة غرض الواقفين واجبة. (رد المحتار علی الدر المختار،ج:6،ص:665)

إذا اختلف الواقف أو اتحد الواقف واختلفت الجهة بأن بنى مدرسة ومسجدا وعين لكل وقفا وفضل من غلة أحدهما لا يبدل شرط الواقف. وكذا إذا اختلف الواقف لا الجهة يتبع شرط الواقف وقد علم بهذا التقرير إعمال الغلتين إحياء للوقف ورعاية لشرط الواقف هذا هو الحاصل من الفتاوى. اهـ. وقد علم منه أنه لا يجوز لمتولي الشيخونية بالقاهرة ‌صرف ‌أحد ‌الوقفين ‌للآخر۔(البحر الرائق،باب وقف المسجد ايجوز ان يبنی من غلته منارة،ص:234،ج:5)


فتویٰ نمبر : 5928/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں