بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

قرض دیتے وقت شرط لگانا


سوال

میں دوکاندار سےفصل کے سارے اخراجات  قرض لیتا  ہوں ،وہ مجھے سارا سامان اس شرط پر دیتا ہے کہ پھرمیں اپناساراغلہ اسی دوکاندار کو دینے کا پابند  ہوں گا،لیکن قیمت عام منڈی کے ریٹ کے مطابق  لگاتے ہیں ،کیا یہ جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قرض  معاملے میں قرض خواہ پر کوئی ایسی شرط لگانا جائز نہیں  ہے ،جس میں قرض دینے والے کا فائدہ ہو ۔شریعت کی رو سے اس طرح کی شرط سود کے زمرے میں آنے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے۔

 صورت مسؤلہ کے مطابق   دکاندار کا  کاشت کار  کو قرض دے کر اس بات کا پابند بنانا کہ غلہ اسی کے پاس ہی لائے گا ، کسی اور کے پاس لے جانے کی اجازت نہیں  ،تو یہ قرض دے کر اس سے نفع حاصل کرنا ہے جو کہ شریعت میں ناجائز اور حرام ہے ۔

 

قال الله تعالى: وَأَحَلَّ ‌ٱللَّهُ ‌ٱلبَيعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْ (البقرة/ 275)

(‌وأما) ‌الذي ‌يرجع ‌إلى ‌نفس ‌القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض .(بدائع الصنائع، كتاب القرض، فصل فى الشروط، ج:10، ص697)


فتویٰ نمبر : 3591/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں