بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

گائے پالنے کے لیے دینا


سوال

اگر کوئی شخص کسی کو گائے پالنے کے لیے اس شرط پر دے دے کہ اس گائے کا بچہ اور دودھ ہمارے درمیان آدھا آدھا  تقسیم ہوگا،تو کیا ایسا معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟اسی طرح اگر اس شرط پر دے دے کہ جب بھی میرا جی چاہے میں اس کو لے جاؤں گا تو اس کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

فقہی نقطہِ نظر سے عقد اجارہ کے صحیح ہونے کے لیے مدت ِ جارہ اور اجرت کی مقدار کا معلوم  اور متعین ہونا ضروری ہے، اسی طرح جس چیز کو بطور اجرت مقرر کیا جائے تو وہ اجیر کے عمل سے حاصل شدہ نہ ہو۔

صورت مسئولہ  میں عقد اجارہ کی مذکورہ صورت جائز نہیں ،  بلکہ یہ اجارہ فاسدہ ہے ،کیونکہ اجارہ کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اجیر کی اجرت متعین ہو ، جبکہ  اس گائے کے دودھ اور اس سے پیدا ہونے والے بچے  کو اجرت بنانے میں جہالت ہے  کیونکہ دودھ کی مقدار متعین نہیں ،اور اس  گائے سے بچے کا پیدا ہونا یقینی بھی نہیں ،لہذا  یہ اجارہ فاسد ہے۔اسی طرح یہ شرط لگانا کہ جب بھی میرا جی چاہے میں اس کو لے جاؤں گا ، اس سےمدت بھی معلوم نہ ہوئی ۔

تاہم اس کی جائز صورت  یہ ہے کہ ابتداءً جا نور کی قیمت  لگائی جائے ،پھرجانور کا مالک آدھی  قیمت  کے عوض  پالنے والے  کو اپنے ساتھ  اس جانور میں شریک کر دے ، پھر چاہے  وہ  قیمت اس سے وصول  کرے یا معاف کردے  اس طرح دونوں  جانور اور اس کے منافع  میں شریک  ہو جائیں گے  ،پھر اس سے کہے  کہ تم اس جانور کی دیکھ بال  کرو ، اورجو نفع حاصل ہوگا ،وہ نصف نصف   تقسیم ہوگا ۔

 

ولا تصح حتى تكون المنافع معلومة والأجرة معلومة لما روينا ولأن الجهالة في المعقود عليه وفي بدله تفضي إلى المنازعة كجهالة الثمن والمثمن في البيع (الهداية، كتاب الاجارة، ج:3، ص:231)

واذا دفع رجل بقرة على ان يعلفها وما يكون  من اللبن والسمن بينهما انصافا ،فالاجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة اجر قيامه وقيمة علفه (الفتاوی الهندية، کتاب الاجارة، الباب الخامس عشر، الفصل الثالث،ج:3، ص:445)

وعلى ‌هذا ‌إذا ‌دفع ‌البقرة ‌إلى ‌إنسان ‌بالعلف ليكون الحادث بينهما نصفين فما حدث فهو لصاحب البقرة ولذلك الرجل مثل العلف الذي علفها وأجر مثله فيما قام عليها وعلى هذا إذا دفع دجاجة إلى رجل بالعلف ليكون البيض بينهما نصفين، والحيلة في ذلك أن يبيع نصف البقرة من ذلك الرجل ونصف الدجاجة ونصف بذر الفليق بثمن معلوم حتى تصير البقرة وأجناسها مشتركة بينهما فيكون الحادث منها على الشركة۔(الفتاوی الهندية، کتاب الشركة، الفصل الخامس في الشركة الفاسدة،ج:2،ص:336)


فتویٰ نمبر : 3600/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں