بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

بڑے گاؤں کی جامع مسجد کے علاوہ چھوٹی مسجد وں میں جمعہ کی نمازقائم کرنا


سوال

ہمارے گاؤں کی آبادی تقریباً دو ہزار سے زیادہ ہے ۔گاؤں  میں ایک بڑی جامع مسجد ہے ،اس کے علاوہ تین چھوٹی مسجدیں ہیں ،اس بڑی مسجد میں جمعہ کی نمازقائم ہورہی ہےجبکہ جو تین چھوٹی مسجدیں ہیں ان میں سے صرف ایک مسجد میں جمعہ کی نماز کا اہتمام ہو رہا ہے،اب سوال یہ ہے کہ کیا ان چھوٹی مسجدوں میں بھی جمعہ کی نماز ادا کرنا جائز ہے؟

جواب

 جب کسی شہر یا گاؤں میں نماز جمعہ کی شرائط موجود ہوں تو  اس شہر یا گاؤں کی ہر  ہر مسجد میں جمعہ پڑھنا  درست ہے۔البتہ ایک ہی جامع مسجد میں بڑی جماعت کے ساتھ نماز جمعہ ادا کرنا کرنا ممکن ہو تو وہ زیادہ افضل اور مستحسن ہے۔

صورتِ مسئولہ میں اگر شرعی عذر ہو ،مثلاً: جامع مسجد میں  تمام نمازیوں کی گنجائش نہ ہو یا جامع مسجد اتنی دور ہو  کہ نمازیوں کو جانے میں تکلیف ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور معقول عذر ہو تو ایسی صورت میں حسب ضرورت جامع مسجد کے علاوہ چھوٹی مسجد وں میں بھی جمعہ قائم کرنا درست ہے۔

 

قال رحمه الله (‌وتؤدى ‌في ‌مصر في مواضع) أي تؤدى الجمعة في مصر واحد في مواضع كثيرة، وهو قول أبي حنيفة ومحمد، وهو الأصح؛ لأن في الاجتماع في موضع واحد في مدينة كبيرة حرجا بينا، وهو مدفوع.(تبيين الحقائق، كتاب الصلاة، باب صلاة الجمعة، ج:1، ص:218)


فتویٰ نمبر : 10108/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں