بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

میدان جنگ میں مسلمان کو کافر سمجھ کر مارنے پر کفارہ


سوال

اگر کوئی آدمی میدان جہاد میں غلطی سے کسی مسلمان کو کافر سمجھ کر قتل کریں  تو اس آدمی پر دیت لازم ہوگی یا نہیں ۔نیز کفارے کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

کسی نے دوسرے مسلمان کو کافر حربی سمجھ کر گولی چلائی لیکن بعد میں پتہ چلا کہ  وہ مسلمان تھا  ،تو ایساقتل قتل خطا شمار ہوگا ،اس کے نتیجے میں قاتل سے قصاص کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا لیکن اس پر دیت اور کفارہ لازم ہوں گے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شخص میدان جہاد میں غلطی سے کسی کو کافر سمجھ کر قتل کرے توایسا قتل قتل خطا کے زمرے میں داخل ہوگا ، اگر دارالاسلام  کے حدود میں یہ قتل ہوا ہو تو قاتل کے عاقلہ پر دیت اور خود قاتل پر کفارہ لازم ہوگا۔لیکن اگر  دارالحرب میں قتل کیا ہو تو عاقلہ پر دیت  واجب نہیں ہوگی،البتہ قاتل پر کفارہ لازم ہوگا۔

 

قال: "‌والخطأ ‌على ‌نوعين: خطأ في القصد، وهو أن يرمي شخصا يظنه صيدا، فإذا هو آدمي، أو يظنه حربيا فإذا هو مسلم وخطأ في الفعل، وهو أن يرمي غرضا فيصيب آدميا، وموجب ذلك الكفارة، والدية على العاقلة" لقوله تعالى: {فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ} [النساء:92] الآية.(الهداية، كتاب الجنايات، ج:4، ص:443)

وإذا التقى ‌الصفان ‌من ‌المسلمين والمشركين فقتل مسلم مسلما ظن أنه مشرك فلا قود عليه وعليه الكفارة"؛ لأن هذا أحد نوعي الخطإ على ما بيناه، والخطأ بنوعيه لا يوجب القود ويوجب الكفارة.(الهداية، كتاب الجنايات، باب ما يوجب القصاص ومالا يوجبه، ج:4، ص:447)

والثاني: ‌التقوم، ‌وهو ‌أن ‌يكون المقتول متقوما، وعلى هذا يبنى أن الحربي إذا أسلم في دار الحرب فلم يهاجر إلينا فقتله مسلم أو ذمي خطأ أنه لا تجب الدية عند أصحابنا.(بدائع الصنائع، كتاب الجنايات، فصل في بيان ما يسقط القصاص بعد وجوبه، ج:10، ص:305)

‌وأما ‌كونه ‌مسلما ‌فليس ‌بشرط فيجب، سواء كان مسلما أو ذميا أو مستأمنا وسواء كان مسلما أسلم في دار الإسلام أو في دار الحرب، ولم يهاجر إلينا؛ لقوله سبحانه، وتعالى {ومن قتل مؤمنا خطأ فتحرير رقبة مؤمنة} (النساء: 92).( بدائع الصنائع، كتاب الجنايات، فصل في بيان ما يسقط القصاص بعد وجوبه، ج:10،ص:301)


فتویٰ نمبر : 5913/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں