بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

کفار کے عقائد سے متأثر ہونا


سوال

کوئی مسلمان اگر کفار کے عقائد سے متاثر ہوجائے تو اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟کیا متاثر ہونا کفر میں شامل ہےیا نہیں ؟اور کسی کے بارے میں معلوم کیسے ہوگا کہ وہ کفار کے عقائد سے متاثر ہے کیونکہ یہ تو ایک پوشیدہ عمل ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کفار کے عقائد سے متاثر ہونا ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے ۔قرآن مجید میں مسلمانوں کو ہمیشہ اپنے ایمان کو مضبوط کرنے،شریعت کے مطابق زندگی گزارنے اورکفار کے عقائد سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اتنا علم بھی ضروری ہے کہ جس کی بنا پر صحیح اور غلط میں تمییز ہوسکے اور دوسروں کے غلط عقائد سے اپنے آپ کو بچایا جاسکے ،کیونکہ دوسروں کے عقائد سے متاثر ہونا ایمان کے زوال کا سبب بن سکتاہے۔ہاں اگر کوئی بات اچھی لگے اور وہ اسلام کے اصول و ضوابط کے خلاف نہ ہو   تو اس کو بیان کرنے کی گنجائش ہے۔تاہم کسی کے عقائد سے متاثر ہونا یہ ایک پوشیدہ بات ہے اس کی بناء پر کسی پر کوئی  حکم نہیں لگایا جاسکتا،اور  نہ اس کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔

 

قال الله تعالی:﴿وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِن دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ﴾(سورة هود: 113)

شروع في بيان أحكام الكفر الطارئ بعد بيان الأصلي أي الذي لم يسبقه إيمان (قوله:وركنها إجراء كلمة الكفر على اللسان) هذا بالنسبة إلى الظاهر الذي يحكم به الحاكم(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الجهاد،باب المرتد،ج:6،ص:354)

‌لا ‌يخرج ‌الرجل ‌من ‌الإيمان ‌إلا ‌جحود ‌ما ‌أدخله ‌فيه ‌ثم ‌ما ‌تيقن أنه ردة يحكم بها وما يشك أنه ردة لا يحكم بها إذ الإسلام الثابت لا يزول بالشك مع أن الإسلام يعلو وينبغي للعالم إذا رفع إليه هذا أن لا يبادر بتكفير أهل الإسلام مع أنه يقضي بصحة إسلام المكره......،و قال أيضا:وفي الخلاصة وغيرها: ‌إذا ‌كان ‌في ‌المسألة ‌وجوه ‌توجب ‌التكفير ‌ووجه ‌واحد ‌يمنعه ‌فعلى ‌المفتي ‌أن ‌يميل ‌إلى ‌الوجه ‌الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم زاد في البزازية إلا إذا صرح بإرادة موجب الكفر فلا ينفعه التأويل ( رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الجهاد،ج:6،ص:358)


فتویٰ نمبر : 6152/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں