بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

تجارت میں لگائی گئی رقم میں زکوۃ ادا کرنا


سوال

میر ےپاس پانچ لاکھ روپے ہیں میں نے کسی کو کاروبا ر میں لگانے کے لیے دیے ہیں  ہر ماہ   اس سے  نفع بھی آتاہے  اس میں زکوۃ دینے کا طریقہ کار کیا ہوگا اور زکوۃ منافع سمیت دوں گا یا صرف سرمایہ میں دوں گا؟

جواب

جس  کے پاس  ساڑھے سات تولہ سونا ،ساڑھے باون تولہ چاندی یا  اس کی قیمت کےبرابر نقد رقم یا سامان تجارت موجود ہو  اور اس   پر سال گزر جائے تو ایسے مال پرزکوۃ لازم ہوگی۔

صورت مسئولہ  کے مطابق جس کی   ملکیت میں پانچ  لاکھ روپے  ہوں اگر وہ پہلے سے صاحب نصاب نہ ہوبلکہ اس رقم کے ملکیت  میں آنے سے صاحب نصاب بنا ہو تو اس رقم پر  جب  قمری سال گزر جائے  تو  زکوۃ واجب ہوگی   اور  اگر پہلے سے صاحب نصاب ہو تو صاحب  بننے کی تاریخ پر جب قمری سال گزر جائے تو دیگر اموال زکوۃ کے ساتھ ساتھ ان پانچ لاکھ روپوں اور ان کے منافع میں بھی زکوۃ ادا کرے گا،نیز اگر  کاروبار میں لگایا ہو  تو سال کےآخر میں  اصل سرمایہ  اور باقی ماندہ منافع ملا کر چالیس واں حصہ  یعنی ڈھائی فیصد زکوۃ ادا کی جائے  گی۔

 

(وسببه) أي ‌سبب ‌افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك.(ردالمحتار علی الدر المختار،كتاب الزكوة،ج:2،ص:262)

‌وشرط ‌وجوب ‌أدائها حولان الحول على النصاب الأصلي وأما المستفاد في أثناء الحول فيضم إلى مجانسه ويزكي بتمام الحول الأصلي سواء استفيد بتجارة أو ميراث أو غيره.(مراقي الفلاح،كتاب الزكوة،ص:251)

وإن كان ماله أكثر من دينه زكى الفاضل إذا بلغ نصابا.(الهداية،كتاب الزكوة،ج:1،ص:202)


فتویٰ نمبر : 10104/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں