بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

دوران سفر وطن اصلی میں قیام کرنا


سوال

اگر کوئی شخص وطن اقامت  سےمسافت شرعی 78  کلو میٹر یا اس سے زائد مسافت پر نکلے اور درمیان میں وطن اصلی آکر وہاں قیام  کرے لیکن وطن اصلی سے اس جگہ کا فاصلہ 78 کلو میٹر سے کم ہو جہاں جانا ہو تو کیا وطن اقامت سے سفر شمار کرکے قصر کرنا  ہوگا یا وطن اصلی سے سفر کا اعتبار کرکے پورا نماز پڑھنا ہوگا؟

جواب

    وطن اقامت   سےمسافت شرعی کے برابر سفر  پر نکل کر وطن اصلی سے گزرنےیا وطن اصلی سے نکل کر وطن اقامت سے گزرنےیا قیام کرنے سے سفر کے احکام تبدیل ہو جاتے ہیں لہذا  پھروہاں سے  مسافت  کا اعتبار کیا جائے گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص وطن اقامت سے 78 کلو میٹر یا اس سے زائد مسافت پر نکلے لیکن درمیان میں وطن اصلی  سے گزرے یا وہاں قیام کرے تو پھر آگے وطن اصلی سے  مسافت  کا اعتبار ہوگا لہذا اگروطن اصلی سے اس جگہ  کی مسافت 78 کلو میٹر سے کم ہو  تو پوری نماز پڑھنی ہوگی۔

 

أن إنشاء السفر يبطل وطن الإقامة إذا كان منه أما لو أنشأه من غيره فإن لم يكن فيه مرور على وطن الإقامة أو كان ولكن بعد سير ثلاثة أيام فكذلك، ولو قبله لم يبطل الوطن بل يبطل السفر لأن ‌قيام ‌الوطن ‌مانع من صحته.(ردالمحتار علی الدر المختار،باب صلوة المسافر،ج:2،ص:132)

‌وإذا ‌دخل ‌المسافر ‌مصره أتم الصلاة وإن لم ينو الإقامة فيه سواء دخله بنية الاختيار أو دخله لقضاء الحاجة.(الفتاوی الهندية،الباب الخامس عشر في صلوة المسافر،ج:1،ص:142)

فهو بدخول مصره الذي هو وطنه الأصلي يصير مقيما ‌وإن ‌لم ‌ينو ‌الإقامة. ‌‌(تحفة الفقهاء،كتاب الصلاة، ‌‌باب صلاة المسافر، ج:1، ص:152)


فتویٰ نمبر : 10103/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں