بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

نماز میں حالت قیام میں ہاتھ باندھنےکا حکم


سوال

 کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین اس شرعی مسئلہ کے متعلق کہ نماز میں حالت قیام میں ہاتھوں کو کس حالت میں رکھا جائے؟ اس میں امت میں بہت سی متضاد علمی آرا پائی جاتی ہیں جو کہ بظاہر بہت ہی تشویش ناک اور پریشان کن سی بات ہے ۔ بعض مسالک ہاتھوں کو باندھتے ہیں اور بعض باندھتے ہی نہیں بلکہ کھلا چھوڑتے ہیں ۔بعض ہاتھوں کو ایک دوسرے کے اوپر باندھتے ہیں یعنی کلائیوں کو پکڑتے ہیں جبکہ بعض کہنیوں سے پکڑتے ہیں ۔بعض ناف سے نیچے ہاتھ باندھتے ہیں بعض ناف سے تھوڑا سا اوپر باندھتے ہیں جبکہ بعض گردن سے نیچے سینہ پر باندھتے ہیں ۔ جو بازو کھلے چھوڑتے ہیں ہاتھ باندھتے ہی نہیں انہیں کچھ بازو اپنے گھٹنوں کے اوپر والی جگہ رکھتے ہیں جبکہ کچھ ہاتھ جسم پر رکھتے ہی نہیں بلکہ سیدھے کھڑے ہو کر ساتھ ہی بازو ٹانگوں کے ساتھ الگ سے لٹکا لیتے ہیں حضور نبی اکرم خاتم النبین صل الله علیہ و علی آلہ و بارک و سلم نے بیشمار با جماعت نمازوں میں امامت فرمائی تھی ۔یہ کیونکر ممکن ہوا کہ نماز میں قیام کے دوران ہاتھ باندھیں یا کھلے چھوڑیں اور اگر باندھیں تو کیسے باندھیں اور کدھر باندھیں یہ اختلافات پیدا ہو گئے ۔ پھر رسول الله صل الله علیہ و علی آلہ و بارک و سلم کو صحابہ کرام اور اھل بیت عترت رسول صل الله علیہ و علی آلہ و بارک و سلم نے ہزاروں لاکھوں مرتبہ نماز ادا فرماتے دیکھا ہو گا تو یہ آخر کیونکر ممکن ہوا کہ یہ عمل ختلافی ہو گیا ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ تمام ہی یہ طریقے درست ہیں اور کوئی اختلاف ہے ہی نہیں کیونکہ یہ سب طریقے ہی سنت تھے ۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ طریقہ صرف ہاتھ کھلے چھوڑنا ہی سنت تھا جو کہ عترت رسول آل رسول اھل بیت آئمہ سے ثابت ہے اور آئمہ اہل بیت کرام نے سختی سے حکم دیا کہ جیسے ہی نماز میں ہاتھ باندھو نماز ہی باطل ہو جاتی ہے ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز میں ہاتھوں کو باندھنا ہی اصل سنت ہے اور ہاتھ کھلے چھوڑنا نماز کو باطل کرتا ہے ۔ انسان یہ دلائل اور بحث پڑھ کر سن کر بہت شدید پریشانی خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ نماز تو بنیادی ترین عمل ہے اگر یہی سرے سے باطل ہوئی تو آخرت تو برباد ہو گئی ۔ براہ کرم علمی جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ نماز میں حالت قیام میں ہاتھ باندھنےیا نہ باندھنےکے متعلق جومختلف صورتیں ہیں وہ سب جائزہیں البتہ ان میں سےافضل صورت میں آراءمختلف ہیں یعنی ان سب صورتوں میں  نماز ہوجاتی ہے،البتہ مالکیہ ارسال  یعنی ہاتھ چھوڑنے کو بہتراورافضل کہتے ہیں، اورباقی تین ائمہ ہاتھ باندھنے کو بہتر کہتے ہیں ، پھر حنفیہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کو افضل کہتے ہیں، شوافع سینہ پرہاتھ باندھنے کو افضل کہتے ہیں۔ اور امام احمد رحمہ اللہ سے دو روایتیں ہیں،سب ائمہ کے اپنے اپنے دلائل ہیں جو کتب فقہ میں تفصیل سے مذکور ہیں۔

 

حدثنا محمد بن محبوب، حدثنا حفصُ بن غِياث، عن عبد الرحمن ابن إسحاق، عن زياد بن زيد، عن أبي جُحَيفةأنَ عليّاَ رضى الله عنه قال: السنة وضعُ الكف على الكف في الصلاةِ تحتَ السُرة.

حدثنا محمد بن قُدامة- يعني ابنَ أعين-، عن أبي بدر، عن أبي طالوت عبد السلام، عن ابن جرير الضبي، عن أبيه قال:رأيتُ عليّاَ رضي الله عنه يُمسِكُ شِمالَه بيمييه على الرسغِ فوقَ السُّرَّة. قال أبو داود: وروي عن سعيد بن جُبير: فوق السُّرَّة. وقال أبو مِجلَز: تحت السُّرَّة.

حدثنا مُسدد، قال: حدّثنا عبد الواحد بن زياد، عن عبد الرحمن ابن إسحاق الكوفي، عن سيار أبي الحكم، عن أبي وائل، قال:قال أبو هريرة: أخذُ الأكُفِّ على الأكف في الصلاة تحتَ السُّرَّة.

قال أبو داود: سمعتُ أحمد بن حنبل يُضعفُ عبد الرحمن بن إسحاق الكوفي.حدثنا أبو توبة، قال: حدَثنا الهيثم- يعني ابنَ حُميد-، عن ثَورِ، عن سليمانَ بن موسىعن طاووس قال: كان رسولُ الله- صلى الله عليه وسلم يضعُ يده اليُمنى على يَدِه اليُسرى، ثم يَشُدُ بهما على صَدْرِه، وهو في الصلاة.(سنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب وضع اليمنى على اليسرى في الصلاة،ج:2،ص:71-72)

حدّثنا عفّان قال: حدّثنا يزيد بن إبراهيم قال: سمعت عمرو بن دينار قال: «كان ابن الزّبير، إذا صلَّى يرسل يديه»حدّثنا عمر بن هارون، عن عبد اللَّه بْن يزيد قال:"ما رأيت ابن المسيب، قابضا يمينه في الصلاة، كان يرسلها".(مصنف ابن أبي شيبة،کتاب الصلاة، من كان يرسل يديه في الصلاة.ج:1،ص:344).

قال: " ويعتمد بيده اليمنى على اليسرى تحت السرة " لقوله عليه الصلاة والسلام " إن من السنة وضع اليمين على الشمال تحت السرة " وهو حجة على مالك رحمه الله تعالى في الإرسال وعلى الشافعي رحمه الله تعالى في الوضع على الصدر لأن الوضع تحت السرة أقرب إلى التعظيم وهو المقصود ثم الاعتماد سنة القيام عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى حتى لا يرسل حالة الثناء والأصل أن كل قيام فيه ذكر مسنون يعتمد فيه ومالا فلا هو الصحيح فيعتمد في حالة القنوت وصلاة الجنازة ويرسل في القومة وبين تكبيرات الأعياد. (الهداية في شرح بداية المبتدي،كتاب الصلاة،باب صفة الصلاة،ج:1،ص:49).

(ووضع) الرجل (يمينه على يساره تحت سرته آخذا رسغها بخنصره وإبهامه) هو المختار،وتضع المرأة والخنثى الكف على الكف تحت ثديها". ( الدر المختار،كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، فصل في بيان تأليف الصلاة إلى انتهائها، ج:2، ص:297-298.)


فتویٰ نمبر : 10471/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں