بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

قرض پر اضافی رقم دینا


سوال

 زید نے ایک موٹر کار لینا ہے اور اس کے پاس  15 ہزار ریال ہیں اور موٹر کار اس نے 35 ہزار ریال پر لینا ہے تو زید نے بکر سے 20ہزار ریال قرض مانگ لیے تین مہینے کی میعاد پرکہ آپ مجھے20ہزار ریال دے دو میں نے موٹر کار لینا ہے اور تین مہینے کے بعد میں آپ کو 23 ہزار ریال دوں گا تو بکر نے زید کو 20ہزار ریال دےدیے تین مہینے کی میعادپراور تین مہینے بعد وہ زید سے 23 ہزار یعنی 3 ہزار یال منافع لے گا زید کو اکثر لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے بکر کو جو 3ہزار ریال اضافی دینے ہیں یہ سود ہے کیا واقعی ایسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  قرض پر اضافی رقم لینے کی شرط لگانا سود ہے جو کہ ناجائز ہے۔

لہذاصورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ عقد میں 20ہزار ریال قرض پر اضافی 3 ہزار ریال منافع لینا سود کے زمرے میں آتا ہےجو کہ ناجائز ہے لہذا زید پر بکر کو صرف 20 ہزارریال واپس  کرنا لازم ہے۔

 

وفي الأشباه‌كل ‌قرض جرنفعاحرام...(قوله ‌كل ‌قرض جرنفعاحرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر ، و عن الخلاصة و في الذخيرة و إن لم يكن النفع مشروطا في القرض ، فعلى قول الكرخي لا بأس به ۔ (رد المحتار علی الدر المختار ،ج:5،ص:166)

فتعين أن يكون الواجب فيه رد المثل ..... (وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة على أن يرد عليه صحاحا أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا»؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا وعن شبهة الربا واجب، هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض۔( بد ائع الصنائع في ترتيب الشرائع ، كتاب القرض، فصل في شرائط ركن القرض، ج:7، ص:395)


فتویٰ نمبر : 3624/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں