بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

قسط وارخريد كرآگے فروخت كرنا


سوال

ایک شخص نے قسطوں پرموٹر سائیکل خریدا ہے، وہ اس  موٹر سائیکل کو  آگے کسی دوسرے شخص پرنقد کم قیمت پرفروخت کرنا چاہتا ہے تو کیا اس طرح قسط وار خرید کر نقد کم قیمت پرفروخت کرنا جائز ہے؟ نیز ایک کاروباری آدمی قسطوں پر ایک چیزخریدتا ہے اور پھر آگے وہ  دوسرے شخص کو زیادہ اقساط پر دیتا ہے تو کیا اس طرح  کرنا شرعاًدرست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کوئی چیز ادھار خرید کر فروخت کنندہ کے علاوہ کسی دوسرے شخص پرنقد کم قیمت پر فروخت کرنا شرعاً اس وقت جائز ہوتا ہےکہ جب خریدار نے مبیع پرقبضہ کرلیا ہو، کیونکہ منقولی اشیاء کوفروخت کرنے کے لیے مبیع پر قبضہ کرنا ضروری ہے۔ نیزکسی چیزکو قسط وارزیادہ قیمت پراس شرط کے ساتھ فروخت کرنا جائز ہے کہ مجموعی رقم اورقسطوں کی ادائیگی کی تاریخیں مقرر ہوں اورقسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں اضافی رقم کا مطالبہ نہ ہو۔

صورت مسئولہ کے مطابق موٹر سائیکل قسطوں پر خرید کر آگے فروخت کنندہ کے علاوہ کسی دوسرے شخص پر نقد کم قیمت پر فروخت کرنا جائز ہے، اسی طرح کسی چیز کو قسط وار فروخت کرنا  بھی شرعا جائز ہے۔

‌

ومن اشترى شيئا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه لأنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع ما لم يقبض۔ (فتح القدير، كتاب البيوع، فصل اشترى شيئا مما ينقل ويحول، ج:6، ص:510)

من ‌اشترى ‌شيئا ‌بألف ‌درهم (حالة أو نسيئة فقبضه ثم باعه من البائع بخمسمائة قبل نقد الثمن) فالبيع الثاني فاسد۔۔۔‌إذا ‌باع ‌من ‌غير ‌البائع فإنه جائز أيضا بالاتفاق۔ (العناية شرح الهداية، كتاب البيوع، بيع الطريق وهبته، ج:6، ص:433)

البیع مع تأجیل الثمن وتقسیطه صحیح … یلزم أن تکون المدة معلومة فی البیع بالتأجیل والتقسیط۔ (شرح المجلة محمد خالد الأتاسي، البيوع، الفصل الثاني في بيان المسائل المتعلقة بالبيع، المادة:245،246)


فتویٰ نمبر : 3589/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں