بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

خطیب اور امام کا ایک نہ ہونا


سوال

اگر ایک مسجد میں جمعہ کی تقریر ایک مولوی صاحب کرتا ہو جبکہ نماز(جمعہ) دوسرا امام پڑھاتا ہو ۔تو ان دونوں میں خطبہ کون دے گا؟یعنی تقریر کرنے والا یا نماز پڑھانے والا؟

جواب

‌شریعت  مطہرہ  کی روسے جمعہ کی ادائیگی کی صحت کے لیے فقہاے کرام نے جو شرائط ذکر کی ہیں ،ان شرائط میں ایسی کوئی  شرط نہیں  کہ خطبہ پڑھنے والا  ہی نماز پڑھائے گا،بلکہ خطبہ پڑھنے والا  اگر امامت کے لیے دوسرے شخص  کو نامزد کر دے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ،البتہ بہتر یہ ہے کہ جو شخص خطبہ پڑھے ، نماز بھی وہی پڑھائے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق  اگر ایک امام خطبہ دے  اور دوسرا امام نماز پڑھائے تو اس میں  کوئی  شرعی قباحت نہیں ۔لیکن مستحب یہ ہے کہ  جو شخص خطبہ پڑھے ،نماز بھی وہی پڑھائے۔

 

(لا ينبغي أن يصلي غير الخطيب) ؛ لأن الجمعة مع الخطبة كشيء واحد فلا ينبغي أن يقيمها اثنان، وإن فعل جاز.(دررالحكام شرح غررالأحكام،باب الصلاة العيدين،ج:1،ص:141)

وقد ‌علم ‌من تفاريعهم أنه لا يشترط في الإمام أن يكون هو الخطيب، وقد صرح في الخلاصة بأنه لو خطب صبي بإذن السلطان وصلى الجمعة رجل بالغ يجوز.(البحر الرائق، باب الصلاة الجمعة، شروط صحة الجمعة،ج:2،ص:159)


فتویٰ نمبر : 10100/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں