بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

قرض کی ادائیگی کے لیے حرام کمائی کرنا


سوال

میں تقریبا 12 لاکھ مقروض ہوں اور میری آمدنی 15 سے 20 ہزار روپے ماہانہ ہے جس میں زندگی بہت اچھی گزر رہی ہے۔ ظاہری اسباب کو دیکھ کر شاید میں یہ قرض 2 -3 سال میں ادا کرسکوں۔ سوال یہ ہے کیا میں آنلائن گیم کھیل کر، جس کی آمدنی حرام ہوں، اس سے قرض ادا کرسکتا ہوں کیونکہ قرض دار حیا کی وجہ سے نہیں مانگتا اور اس کو پیسوں کی ضرورت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ وسلم نے قرضدار کا جنازہ پڑھانے سے انکار کیا تھا، اور بھی بہت سخت وعیدیں ہیں، ڈر لگتا ہے کہ اس حال میں موت نہ آجائے۔

جواب

رسول اللہ  ﷺ  کا ارشاد ہے کہ جو شخص قرض ادا کرنے کی نیت سے قرضہ لیتا ہے، تو اللہ تعالی قرض کی ادائیگی میں اس کی مدد فرماتا ہے۔ تاہم قرض کی ادائیگی  کے لیے حرام کمانے  کی اجازت نہیں۔ نیز حرام طریقوں سے مال حاصل کرنا اور استعمال کرنا جائز نہیں۔

لہذا صورتِ مسؤلہ کے مطابق  سائل کے لیے قرض کی ادائیگی کی نیت سے حرام کمائی کرنا جائز نہیں۔

 

"‌لا ‌يدخل ‌الجنة ‌جسد غذي من الحرام" (المعجم الأوسط للطبراني، باب الميم، من اسمه: محمد،ج: 6، ص: 112 .)

عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من ‌أخذ ‌أموال ‌الناس ‌يريد ‌أداءها ‌أدى ‌الله ‌عنه، ومن أخذ يريد إتلافها أتلفه الله. (صحيح البخاري،كتاب الاستقراض وأداء الديون والحجر والتفليس، باب: من أخذ أموال الناس يريد أداءها أو إتلافها، رقم الحديث: 2257، ج:2، ص: 841.)

قوله: "مَن أخذَ أموالَ الناس يريد أداءَها أدَّى الله عنه"؛ يعني: مَن استقرضَ قرضًا عن احتياج، وهو يقصد أن يؤدِّيَه، ويجتهد ويُبالغ في طلب شيءٍ يؤدِّي به ذلك القرضَ أعانه الله على أدائه، وإن لم يتيسر له ما يؤدِّي ذلك الدَّينَ حتى يموتَ، المَرجوُّ من الله الكريم أن يُرضيَ خصمَه بفضله.ومَن استقرض لا عن ضرورةٍ، ولكن ليس له قصدُ أدائه؛ لم يُعِنْه في أدائه، ولم يُوسَّع رزقُه، بل يَتلَفُ مالُه؛ لأنه قصدَ إتلافِ مالِ مسلمٍ من غيرِ قصدِ ردِّ عِوَضٍ. (المفاتيح في شرح المصابيح،كتاب البيوع، باب الإفلاس والإنظار، ج: 3، ص: 462.)


فتویٰ نمبر : 5983/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں