بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

دوران ملازمت جی ۔پی فنڈ سے رقم نکالنا


سوال

اگر کوئی ملازم   کسی ضرورت  کی وجہ سے دوران ملازمت جی ۔پی فنڈ سے رقم نکالے ،اور وہ رقم قسطوں میں  واپس کرنا  لازم ہو اختیار نہ دیا گیا ہو،تو اس رقم  کو واپس جمع کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ  کی صورت میں اس پر اضافی رقم جو ملتی ہے اس کا شرعی حکم کیا  ہو گا؟

جواب

جی پی فنڈ وہ رقم ہے جو ملازمین کی تنخواہ سے ہر ماہ مخصوص مقدار میں کاٹی جاتی ہے اور مدت ملازمت  ختم ہوتے وقت یہ رقم بمع کچھ اضافے کے واپس دی جاتی ہے ۔ اگر ملازم   دوران سروس کسی ضرورت کے لیے جی پی فنڈ  سے رقم نکالے اوروہ رقم   قسطوں میں   واپس کرنا لازم ہو  تو یہ شخص ادارے کا مقروض متصور  کیا جائے گا۔ کیونکہ تنخواہ  کی جو رقم ملازم کو ملتی ہے وہ اس کی ملکیت ہوتی ہے اور جو  حکومت کاٹتی ہے وہ اس کی ملکیت نہیں ہوتی   اس لیے اس میں وہ کوئی تصرف نہیں کر سکتا ۔لہذا دوران ملازمت  ملازم جی پی فنڈ سے جو رقم نکالتا ہے اگر وہ قسطوں میں واپس کرنا  لازم ہو اس کو اختیار نہ ہو تو مدت ملازمت ختم ہونے پر جو اضافی رقم اس کو ملے گی وہ اس کے لیے حلال ہے او ا گر دوبارہ جمع کرنے میں وہ خود مختار ہو یا سودی و غیر سودی  اکاؤنٹ میں اس کو اختیار  دیا جائے اور وہ اپنے اختیار سے سودی اکاؤنٹ میں رقم جمع کروائے توپھر اس پرجو نفع ملےاس کا وصول کرنا جائزنہیں، اس سے اجتناب ضروری ہے ۔

 

عن النعمان بن بشير، قال: سمعته يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: - وأهوى النعمان بإصبعيه إلى أذنيه .إن الحلال بين، وإن الحرام بين، وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس، فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه، وعرضه، ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام، كالراعي يرعى حول الحمى، يوشك أن يرتع فيه، ألا وإن لكل ملك حمى، ألا وإن حمى الله محارمه، ألا وإن في الجسد مضغة، ‌إذا ‌صلحت، ‌صلح الجسد كله، وإذا فسدت، فسد الجسد كله، ألا وهي القلب.(صحيح مسلم،رقم الحديث:١٥٩٩)

ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة:إما بشرط التعجيل،أو بالتأجيل،أو استيفاءالمعقود عليه.(الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة،الباب الثاني في بيان أنه متى تجب الأجرة وما يتعلق به من الملك،ج:٤،ص:٤١٣)


فتویٰ نمبر : 3621/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں