بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تین طلاقیں لکھ کر بھیجنے کا حکم


سوال

ایک آدمی نے نکاح کیا جو رجسٹرڈ نہیں تھا ،مولوی صاحب نے رجسٹر پاس نہ ہونے کی وجہ سے ایک کاپی میں یہ لکھ دیا۔دونوں میاں بیوی کی ازدواجی زندگی  کا سلسلہ چلتا رہا ،لیکن بعد میں کسی جھگڑے کی وجہ سے شوہر نے  کاغذ پر یہ جملہ تین مرتبہ لکھ  کر اپنی بیوی کو بھیج دیا" میں تجھے طلا ق دے دی"۔پھر کسی کے کہنے پر کہ ایسی طلاق واقع نہیں ہوتی ،تو فون پر بول کر دو طلاقیں دےدیں۔اب وہ دونوں رجوع کرنا چاہتے ہیں تو کیا شرعی لحاظ سے وہ رجوع کرسکتے ہیں؟

جواب

 واضح رہے کہ جس طرح زبانی تلفظ سے طلاق واقع ہوتی ہےاسی طرح تحریر وکتابت سے بھی واقع  ہوتی ہے ۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے بیان کے مطابق اگر شوہر نے تین طلاقیں  کسی کاغذ پر لکھ کر بیوی کو بھیجا ہو تو اس سے تین طلاقیں واقع ہو کر  وہ عورت مطلقہ مغلظہ ہوئی اور شوہر پر حرام ہے۔اب وہ صرف رجوع سے ایک دوسرے کے لیے حلال نہیں ہوسکتے ۔

 

وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.(الفتاوٰی الهندية، کتاب الطلاق، الفصل السادس فی الطلاق بالکتابة، ج:1، ص:446 )

فروع كتب الطلاق إن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى وقيل مطلقا. قال ابن عابدين:وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو  ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.(ردالمحتار، کتاب الطلاق، مطلب فی الطلاق بالکتابة، ج:4، ص:455)


فتویٰ نمبر : 6972/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں