بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

مہتمم کا مدرسہ کے فنڈ سے قرض حسنہ لینا


سوال

اگر مدرسہ میں فنڈ زیادہ ہو تو کیا مہتمم صاحب کےلیے مدرسہ سے قرضہ حسنہ لینا جائز ہے جس کے ذریعے مہتمم صاحب اپنے لیے کوئی کاروبار وغیرہ شروع کرے، اور مدرسہ کواپنی ضرورت کے وقت ٹھیک قرضہ حسنہ واپس کرتا ہے؟

جواب

فقہی نقطہ نظر سے امانت کی رقم کسی کو قرض حسنہ کے طور پر  دینے سے اگر مقصود قرض دار کی ضرورت وحاجت پوری کرنا ہو جب کہ ان رقوم کی حفاظت بغیر قرض دینے کے ممکن ہو، تو ایسی صورت میں امانت والے پیسوں سے قرض دینا جائز نہ ہوگا، الا یہ کہ مالک کی طرف سے اس کی اجازت ملے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر مہتمم صاحب مدرسہ کی رقم سے اپنا کاروبار شروع کرنے کےلیے قرض لے رہا ہو تویہ جائز نہیں، کیونکہ مدرسہ کی رقم اس کے پاس امانت ہے اور اس کو اپنی ضرورت میں استعمال کرنا امانت میں خیانت  ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔

 

(فإذا تم ولزم لايملك ولا يعار ولا يرهن) قوله ( لا يملك ) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه ولا يعار ولا يرهن لاقتضائهما الملك۔(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الوقف، ج: 6، ص: 539)

أن القيم ليس له إقراض مال المسجد ، قال في جامع الفصولين ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عياله ولا إقراضه فلو أقرضه ضمن وكذا المستقرض وذكر أن القيم لو أقرض مال المسجد ليأخذه عند الحاجة وهو أحرز من إمساكه فلا بأس به وفي العدة يسع المتولي إقراض ما فضل من غلة الوقف لو أحرز۔(البحر الرائق، كتاب الوقف، ج: 5، ص: 401)

الوکیل أمین فیما  فی یدہ کالمودع، فیمن بما یضمن به المودع. (شرح المجلة،الكتاب الحادي عشر: في الوكالة،الباب الاول، ج:4، ص: 404)


فتویٰ نمبر : 3586/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں